زیرِ حراست ملزموں کے میڈیا انٹرویوز پر پابندی, ایک تاریخی فیصلہ
ملک محمد اشرف
Stay tuned with 24 News HD Android App
لاہور ہائیکورٹ کا حالیہ فیصلہ جس میں زیرِ حراست ملزموں کے میڈیا انٹرویوز پر پابندی عائد کی گئی ہے، نہ صرف قانون اور انصاف کی بالادستی کا اظہار ہے بلکہ انسانی وقار اور بنیادی حقوق کے تحفظ کی ایک روشن مثال بھی ہے۔ جسٹس علی ضیاء باجوہ نے شہری وشال شاکر کی درخواست پر یہ فیصلہ جاری کیا ہےاور اس کے ذریعے ایک ایسی رہنمائی فراہم کی ہے جو مستقبل میں میڈیا، پولیس اور ریاستی اداروں کے رویے کو ایک نئی سمت دے سکتی ہے۔جسٹس علی ضیاء باجوہ کا شمار ان ججوں میں ہوتا ہے جو فیصلوں میں قانون کی روح اور انسانی وقار کو یکجا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان کا یہ فیصلہ اس بات کا ثبوت ہے کہ عدلیہ صرف قوانین کی تشریح تک محدود نہیں بلکہ سماج کو ایک اخلاقی سمت بھی فراہم کرتی ہے۔ انہوں نے یہ باور کرایا ہے کہ ریاست کے ہر شہری کی عزتِ نفس عدالت کی نظر میں یکساں اہمیت رکھتی ہے، چاہے وہ ملزم ہو یا عام شہری۔ ان کی قانونی بصیرت اور باریک بینی نے اس فیصلے کو ایک ایسا حوالہ بنا دیا ہے جو آنے والے برسوں تک یاد رکھا جائے گا۔
پاکستان میں طویل عرصے سے میڈیا ٹرائل ایک بڑا مسئلہ رہا ہے۔ کسی بھی ملزم کو عدالت میں جرم ثابت ہونے سے پہلے مجرم بنا کر پیش کرنا نہ صرف اس کے حقِ دفاع کو متاثر کرتا ہے بلکہ اس کے خاندان، سماجی عزت اور مستقبل پر بھی کاری ضرب لگاتا ہے۔ عدالت نے بالکل درست نشاندہی کی کہ یہ طرزِ عمل فیر ٹرائل کے بنیادی اصولوں سے متصادم ہے۔اکثر دیکھا گیا ہے کہ پولیس اپنی کارکردگی دکھانے کے لیے ملزموں کو میڈیا کے سامنے پیش کرتی ہے یا ناکوں پر شہریوں کی تذلیل کو "کامیابی" بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ عدالت نے اس روش کو سختی سے مسترد کیا ہے اور واضح کیا ہے کہ پولیس یا کوئی ادارہ اپنے تاثر کو بہتر بنانے کے لیے شہریوں کی پرائیویسی اور وقار پر سمجھوتہ نہیں کرسکتا۔یہ فیصلہ میڈیا کے لیے بھی ایک آئینہ ہے۔ آزادیِ اظہار جمہوریت کی روح ہے لیکن عدالت نے یاد دلایا کہ آزادیِ اظہار لامحدود نہیں۔ اگر میڈیا کی رپورٹنگ کسی شہری کے وقار کو مجروح کرے، اس کی پرائیویسی پامال کرے یا اس کے مستقبل پر منفی اثر ڈالے تو یہ آزادیِ اظہار کے زمرے سے باہر ہے۔ میڈیا کا کردار درست، ذمہ دارانہ اور حقائق پر مبنی ہونا چاہیے۔عدالت نے اداروں کو پابند کیا ہے کہ وہ زیرِ حراست افراد کے بنیادی حقوق کی ہر حال میں حفاظت کریں۔
یہ بات بھی اہم ہے کہ عدالتی فیصلے میں میڈیا کے کردار کو ریگولیٹ کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔ پاکستان جیسے ملک میں جہاں میڈیا بعض اوقات غیر مصدقہ خبریں اور تضحیک آمیز مواد نشر کرتا ہے، یہ رہنمائی وقت کی اہم ضرورت ہے۔,اس فیصلے کے بعد توقع کی جاسکتی ہے کہ زیرِ حراست افراد کو محض "نمائش" یا "ریٹنگ" کا ذریعہ نہیں بنایا جائے گا۔ یہ قدم اس سوچ کو فروغ دے گا کہ انصاف صرف عدالت کے کمرے میں ہونا چاہیے، ٹی وی سکرین پر نہیں۔ اگر اس فیصلے پر سختی سے عمل درآمد ہوا تو یہ عام شہریوں کے ریاستی اداروں پر اعتماد کو بھی بحال کر سکتا ہے۔یہ فیصلہ بنیادی انسانی وقار کے تحفظ کی طرف ایک بڑی پیش رفت ہے۔ جسٹس علی ضیاء باجوہ کا یہ اقدام نہ صرف عدلیہ کی ذمہ داریوں کا عملی اظہار ہے بلکہ ان کی شخصیت کے وژن اور قانون کی باریکیوں کو سمجھنے کی صلاحیت کا عکاس بھی ہے۔ اگر میڈیا اور ادارے اس فیصلے کی روح کو تسلیم کریں اور اپنے رویے میں سنجیدہ تبدیلی لائیں تو یہ فیصلہ ایک نئے عدالتی دور کی بنیاد رکھ سکتا ہے، جہاں انصاف صرف سننے اور دیکھنے کے عمل تک محدود نہ رہے بلکہ ہر شہری کی عزت و وقار کا حقیقی تحفظ کرے۔