حکومت ضرورت کے تحت آئین میں ترمیم کر سکتی ہے،قادر مندوخیل

27 ویں ترمیم 26 ویں آئینی ترمیم کا تسلسل ہے اس میں جو نکات رہ گئے تھے وہ 27 ویں ترمیم میں دور کیا جائے گا،حذیفہ رحمان

Nov 04, 2025 | 00:02:AM
حکومت ضرورت کے تحت آئین میں ترمیم کر سکتی ہے،قادر مندوخیل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24نیوز)پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما قادر خان مندوخیل نے کہا ہے کہ حکومت ضرورت کے تحت آئین میں ترمیم کر سکتی ہے، آئین  کا آرٹیکل 239 یہ اجازت دیتا ہے کہ پارلیمنٹ کے پاس اگر 2 تہائی اکثریت ہے تو وہ جب ضرورت ہو آئین میں ترمیم کر سکتی ہے ۔

24نیوز کے پروگرام گونج میں مسعود رضا کے ساتھ میں گفتگو کرتے ہوئے  ہوئے قادر خان مندوخیل نے کہا کہ تحریک انصاف نے مسودہ دیکھے بغیر آئینی ترمیم کو مسترد کر دیا ہے یہ ان کی سنجیدگی کا حال ہے ،26ویں ترمیم بھی ان لوگوں نے نا نا  کرتے ہوئے منظور کی تھی، بیرسٹر گوہر خان کا بیان ریکارڈ پر ہے کہ 26 ترمیم کا مسودہ بہترین ہے بس اس پر خان کی رائے لینی ہے ۔ان کاکہناتھا کہ آئین جب اجازت دیتا ہے تو یہ کون ہوتے ہیں مسترد کرنے والے۔

پی پی رہنما کاکہناتھا کہ 6 نومبر کو پی پی کی سی ای سی کا اجلاس ہے وہاں اس معاملے کو دیکھا جائے گا ۔میثاق جمہوریت میں میاں نواز شریف اور بی بی کے دستخط ہیں ،عمران خان سمیت مولانا فضل الرحمان نے ان ڈائریکٹ اس کو او کے کیا ہے کہ آئینی عدالتیں الگ ہونی چاہیے تو پیپلزپارٹی اور ن لیگ نے ان کی بات مان کر آئینی عدالتیں الگ کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔

پروگرام میں شریک پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما  اور وزیر اعظم کے مشیر حذیفہ رحمان نے کہا کہ 27 ویں ترمیم کے ذریعے عدالت پر اثر انداز ہونے کی کوشش نہیں کی جارہی یہ صرف 26 ویں آئینی ترمیم کا تسلسل ہے اس میں جو نکات رہ گئے تھے وہ 27 ویں ترمیم میں دور کیا جائے گا۔ان کاکہناتھا کہ این ایف سی ایوارڈ اور 18ویں ترمیم ختم کرنے کی جو بات کی جا رہی ہے اس پر پیپلزپارٹی سے بات کی جا سکتی ہے ۔اس ترمیم سے عوام کی بالادستی قائم ہوگی کیونکہ پارلیمنٹ عوام کے ووٹ سے بنتی ہے اور اگر وہ لوگ طے کریں گے کہ عدالتی نظام کیسا ہوگا تو زیادہ بہتر ہوگا۔حذیفہ رحمان کاکہناتھا کہ آپ اس کو اس طرح بھی کہہ سکتے ہیں کہ پارلیمانی کمیٹی بنے گی تو سب کی نمائندگی ہوگی۔پارلیمنٹ ایک سپریم ادارہ ہے   اور تمام اداروں کی ماں ہے وہ اپنے فیصلوں کا بوجھ اٹھا سکتی ہے وہی پارلیمنٹ اگر جج لگائے گی تو اس سے بہتر کوئی فورم نہیں ہو سکتا۔

دیگر کیٹیگریز: پاکستان - قومی
ٹیگز: