لاہور ہائیکورٹ : بجلی اور گیس لوڈشیڈنگ کیخلاف درخواست خارج،درخواست گزارکو ایک لاکھ جرمانہ

Jun 04, 2026 | 12:36:PM
لاہور ہائیکورٹ : بجلی اور گیس لوڈشیڈنگ کیخلاف درخواست خارج،درخواست گزارکو ایک لاکھ جرمانہ
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ملک اشرف)لاہور ہائیکورٹ نے بجلی اور گیس لوڈشیڈنگ کے خلاف دائر آئینی درخواست خارج کر دی۔

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس خالد اسحاق نے بجلی، گیس کی غیر اعلانیہ لوڈشینگ سے متعلق درخواست کا 19 صفحات پر مشتمل حکم نامہ جاری کیا۔

عدالت کی جانب سے متعلقہ فورم سےرجوع کیےبغیردرخواست دائر کرنے پر درخواست گزارپرایک لاکھ روپےجرمانہ عائد کیا گیا ہے۔ 

عدالت نے کہا درخواست گزار کے پاس داد رسی کے لیے متعلقہ فورم موجود تھا، درخواست گزار نے متعلقہ فورم استعمال کیے بغیر پٹیشن دائر کی جب کہ اس نے لوڈ شیڈنگ، ٹیرف، لائن لاسز، پالیسی مسائل پرثبوت یا گراؤنڈز پیش نہیں کیےگئے۔

عدالت نے کہا کہ توانائی بحران جیسے پیچیدہ مسائل کا حل متعلقہ اداروں اور پالیسی سے نکلے گا، تکنیکی اور پالیسی مسائل ایگزیکٹو اور ریگولیٹری باڈیز کے دائرہ کار میں ہیں، مفاد عامہ کی درخواستیں ایک اہم ہتھیار ہے جسے احتیاط سے استمعال کرنا چاہیے، مفاد عامہ کے پیچھے شہرت کی بھوک اور بدنیتی نہیں چھپی ہونی چاہیے، ہائیکورٹ کا فرض ہے کہ ایسی درخواستوں کی حوصلہ شکنی کرےتاکہ انصاف کا راستہ آلودہ نہ ہو۔

یہ بھی پڑھیں:سوڈان سے بھارت پہنچنے والے مسافر میں ایبولا وائرس، محکمہ صحت الرٹ

عدالت نے ریمارکس دیے کہ مفاد عامہ کی پیٹیشن کے لیے ضروری ہے کہ درخواست گزار مستند حقائق بیان کرے، قیاس آرائی،فرضی یا بدنیتی پر مبنی درخواست مفاد عامہ کے نام پر قابل سماعت نہیں ہوسکتی،عدالتی مداخلت اس وقت تک مناسب نہیں جب تک بنیادی حقوق کی خلاف ورزی نہ ہو،عدالتی وسائل اور وقت کا ضیاع روکنے کےلیے ایسی درخواستوں پر جرمانہ ضروری ہے۔

عدالت نے کہا کہ درخوست گزار نے پٹیشن میں ایک سرٹیفکیٹ لگا کر بتایا کہ وہ متبادل فورم استعمال کرچکا ،درخواست گزار کا لگایا گیا سرٹیفکیٹ بھی جھوٹا ثابت ہوا،درخواست گزار ایک لاکھ روپے بطور جرمانہ ہائیکورٹ بار کی ڈسپنری میں جمع کرائے، درخواست گزار جرمانے کی رسید 45 روز کے اندر ڈپٹی رجسٹرار کے پاس جمع کرائے۔