مسوڑوں سے خون آنا جان لیوا مرض کی نشاندہی، تحقیق میں بڑا انکشاف

Jul 04, 2026 | 21:21:PM
مسوڑوں سے خون آنا جان لیوا مرض کی نشاندہی، تحقیق میں بڑا انکشاف
سورس: Google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24 نیوز )ایک نئی طبی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ مسوڑھوں سے خون آنا یا ان میں سوجن صرف منہ کی صحت کا مسئلہ نہیں بلکہ گردوں کی سنگین بیماری کی ابتدائی علامت بھی ہو سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق مسوڑھوں کی بیماری کی عام علامات میں سوجن، سرخی، دانت صاف کرتے وقت خون آنا اور جلن شامل ہیں۔ یہ کیفیت عموماً دانتوں پر جمنے والی میل (ڈینٹل پلاک) کے سخت ہو جانے اور منہ کی صفائی کا مناسب خیال نہ رکھنے کے باعث پیدا ہوتی ہے۔

جرمنی کے شہر ہیمبرگ میں سائنسدانوں نے 6 ہزار سے زائد افراد کے طبی اور دندان سازی کے ریکارڈ کا جائزہ لیا، جس میں شدید مسوڑھوں کی بیماری اور گردوں کی ابتدائی خرابی کے درمیان واضح تعلق سامنے آیا۔

تحقیق کے مطابق جن افراد کے گردے معمول کے مطابق کام کر رہے تھے، ان میں صرف 14 فیصد افراد شدید مسوڑھوں کی بیماری کا شکار تھے، جبکہ گردوں کی درمیانی درجے کی خرابی میں مبتلا افراد میں یہ شرح بڑھ کر 35 فیصد سے زیادہ ریکارڈ کی گئی۔

محققین نے یہ بھی پایا کہ جن افراد کے پیشاب میں البومن پروٹین کی مقدار زیادہ تھی، جو گردوں کے متاثر ہونے کی ایک اہم علامت سمجھی جاتی ہے، ان میں مسوڑھوں کی بیماری زیادہ شدت کے ساتھ موجود تھی۔ اس کے علاوہ دانتوں کا گر جانا اور دانتوں کو سہارا دینے والے بافتوں (ٹشوز) کا نقصان بھی گردوں کی خراب ہوتی صحت کے ساتھ بڑھتا دیکھا گیا۔

یہ تحقیق طبی جریدے انٹرنیشنل جرنل آف اورل سائنس میں شائع ہوئی، جس میں ہیمبرگ سٹی ہیلتھ اسٹڈی کے 6,179 شرکاء کے دانتوں، مسوڑھوں اور گردوں کی صحت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

یونیورسٹی میڈیکل سینٹر ہیمبرگ کی پروفیسر ڈاکٹر غزال اعرابی کے مطابق نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ مسوڑھوں کی بیماری اور گردوں کی ابتدائی خرابی کے درمیان اہم تعلق موجود ہے، اور منہ کی صحت گردوں کی بیماری کی بروقت تشخیص میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مسوڑھوں سے بار بار خون آئے، سوجن برقرار رہے یا دانتوں کی صحت میں مسلسل خرابی محسوس ہو تو اسے نظر انداز کرنے کے بجائے دندان ساز اور معالج سے فوری مشورہ کرنا چاہیے، کیونکہ بروقت تشخیص کئی پیچیدہ بیماریوں سے بچاؤ میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں :ایل این جی کی قیمتوں میں 16 اعشاریہ 17 فیصد تک اضافہ