"دھریندر" کا کوئی بھی گانا اوریجنل نہیں نکلا، چوریوں کا بھانڈا پھوٹ گیا
Stay tuned with 24 News HD Android App
(وسیم عظمت) پروپیگنڈا فلم دھریندر کو "میگاہٹ" "آرٹ پِیس" تصور کرنے والوں کے لئے یہ اطلاع شاکِنگ ہے کہ باکس آفس پر اربوں روپے سمیٹ لینے کی مشہوری کے حوالے سے بہت زیادہ مشہور کی جا رہی اس فلم کا تو کوئی بھی گانا "اوریجنل" نہیں نکلا۔ چرائے ہوئے گانوں کے ساتھ بنائی گئی اس فلم کی قلعی کچھ ہی دن میں کھل گئی ہے۔
سوشل میڈیا پر اب یہ بتایا جا رہا ہے کہ دھریندر کا کوئی بھی گانا اوریجنل نہیں ہے ۔ سارے گانے پہلے بن چکی فلموں سے دھنوں سمیت چرائے گئے ہیں یا پھر مشہور لوک گانے ہیں جن کو ان کی اوریجنل دھنوں اور طرزوں سمیت چرا کر دھریندر میں شامل کر دیا گیا ہے۔

بتایا گیا ہے کہ "نہ دے دِل پردیسی نوں، تینوں نِت دا رونا پے جاؤ گا"، دراصل 1995 میں مہشور ہونے والا ایک پنجابی لوک گیت ہے، جو اتنا مشہور ہوا کہ کلاسیک پوک گیت کی حیثیت حاصل کر گیا تھا۔
دھریندر کا ایک اور مشہور کر دیا جانے والا گانا جو درحقیقت از حد خوبصورت ہے، وہ اس فلم کے پروڈیوسر کے پیدا ہونے سے پہلے بھارت کی فلم انڈسٹری کے دربار پر راجا اِندر کی طرح راج کرنے والے مسلمان شاعر ساحر لدھیانوی کا لکھا ہوا ہے جو 1960 میں بننے والی ایک فلم میں شامل ہوا اور بہت مقبول ہوا تھا۔ اس گانے "نہ تو کاررواں کی تلاش ہے" کو 1960 کی سپر ہٹ فلم "برسات کی رات" میں ایک قوالی کی شکل میں شامل کیا گیا تھا۔ یہ قوالی، اس وقت کے سب سے بڑے سنگرز مناڈے، محمد رفیع، آشا بھوسلے، نے مل کر گائی۔ اس کے موسیقار روشن اور گیت نگار ساحر لدھیانوی ہیں.
اب کسی نے ساحر لدھیانوی کے لکھے گیت کی کی اصل ویڈیو کے ساتھ دھریندر کے پروڈیوسر کے چرائے ہوئے گانے کا تقابل کر کے یو ٹیوب پر ڈال دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: دھریندر کے بعد بیٹل آف گلوان؛ بھارت کی ہاری ہوئی جنگوں کا بدلہ میڈیا سٹنٹس سے لینے کی نئی کوشش
یہ بھی پڑھیں: دھریندر کے رحمٰن ڈکیت نے فلم کرنےسےانکارکیوں کیا، پھر مان کیوں گیا؟
یہ بھی پڑھیئے :خلیجی ممالک میں بھارتی فلم دھریندر پر مکمل پابندی