آبنائےہرمزکی بندش؛ ایل پی جی کافی مقدار موجود لیکن بلیک میں فروخت
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک) پاکستان میں ایل پی جی کی کافی مقدار موجود ہے لیکن مارکیٹ کے ذرئاع ایران جنگ طویل ہونے کی سورت میں ایل پی جی کی کمی ہونے کا خدشہ ظاہر کر رہے ہیں۔
ایران امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کے دوران مشرق وسطیٰ کے متعدد ملک بھی ایرانی میزائلوں کے حملوں کی زد میں آئے ہوئے ہیں۔ مشرق وسطیٰ کے ممالک نے بندرگاہوں پر تجارتی سرگرمیاں مھدود کر رکھی ہیں۔ خلیج میں پیچیدہ صورتحال کے سبب تیل اور گیس کی ترسیل بند ہے۔ ایران نے آبنائے ہرمز کو کسی اعلان کے بغیر عملاً بند کر دیا ہے۔ مشرق وسطیٰ سے ایل پی جی کی ترسیل بند ہونے کے سبب پاکستان میں ابھی تو صورتحال معمول کے مطابق ہے لیکن یہ بندش زیادہ دن رہی تو ایل پی جی کی کمی کا بحران پیدا ہونے کا خدشہ ہو سکتا ہے۔
قلت بالکل نہ ہونے کے باوجود بعض شہروں سے ایل پی جی کی بلیک میں فروخت کی اطلاعات آ رہی ہیں۔
آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے ایل پی جی کی قیمتوں میں آج ہی کمی کی ہے۔ اوگرا کے نوٹیفکیشن کے مطابق ایل پی جی کی قیمت میں21 پیسے فی کلو کمی کے بعد ایل پی جی کے 11.8 کلوگرام گھریلو سلنڈرکی قیمت میں 2روپے52پیسےفی کلو کمی ہوئی ہے ْ 11.8 کلو کے سلنڈر کی نئی قیمت 2664روپے 88پیسےمقرر کر دی گئی ہے۔
اس کمی کے برعکس لاہور شہر اور دوسرے کئی شہروں میں بعض ایل پی جی وینڈر من مانی قیمت مانگ رہے ہیں۔ ذرائع بتا رہے ہیں کہ ایل پی جی مارکیٹ میں مافیا سرگرم ہو چکا ہے جو جنگ کی پیدا کی ہوئی صورتحال سے فائدہ اٹھا کر مصنوعی قلت پیدا کرنے اور پرانی سستی خریدی ہوئی گیس کو من مانی قیمت پر بیچنے کی سازش کر رہا ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ آج منگل کے روز بہت سی ااؤٹ لیٹس پر ایل پی جی 300 سے 320 روپے فی کلو قیمت پر فروخت ہورہی ہے۔ جنگ طویل ہونے سے مافیا فائدہ اٹھائے گا اور قیمت مزید برھائے گا۔
اس دوران یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ مشرق وسطیٰ سے ایل پی جی کی ترسیل زیادہ دن بند رہی تو ملک میں ایل پی جی کا حقیقی بحران بھی پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔
یہ بھی پڑھیئے: اوگرا نے ایل پی جی کی قیمت میں کمی کر دی
پاکستان میں ایل پی جی کی یومیہ کنزمپشن 7 ہزار میٹرک ٹن تک جاتی ہے۔ صرف لاہور میں یومیہ 14 سو سے 15 سو ٹن ایل پی جی استعمال ہوتی ہے۔
ایل پی جی کی لوکل پروڈکشن یومیہ 2 ہزار سے 2200 ٹن ہتک رہی ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ ملک میں سرکاری طور پر ایل پی جی کا 3 سے 4 روز کا ذخیرہ موجود ہوتا ہے۔
ایل پی جی کی مارکیت میں زیادہ حصہ پرائیویٹ بزنس کا ہے۔ امپورٹر اور ڈسٹری بیوٹر کافی زیادہ ذخرہ رکھتے ہیں۔ ان کی ایل پی جی ذخیرہ کرنے کی استعداد کسی ہنگامی صورتحال کا مقابلہ کرنے کے لئے کافی ہے۔
اس کے باوجود قلت کا خدشہ برقرار ہے۔
ایل پی جیڈسٹری بیوٹرز ایسوسی ایشن کے چئیرمین عرفان کھوکھر نے کہا ہے کہ جنگ کی صورتحال میں انرجی کرائسز بڑھ جائےگا،۔ عرفان کھوکھر نے خبردار کیا کہ مافیا مصنوعی قلت پیدا کرکے بلیک مارکیٹنگ شروع کردے گا،۔ عرفان کھوکھر نے حکومت کو مشورہ دیا کہ وہ فوری تدابیر اختیار کرے۔