امریکہ نے ایران کے سب سے بڑے کریپٹو کرنسی ایکسچینج اور 3 شخصیات پرپابندیاں لگادیں
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک) امریکہ نے ایران کے سب سے بڑے کریپٹو کرنسی ایکسچینج کو ایران پر عائد پابندیوں کو بائی پاس کرنےمیں مدد کرنے کا الزام لگا کر بلیک لسٹ کر دیا۔ تین ایرانی شخصیات پر بھی امریکی پابندیاں عائد کر دی گئیں۔
ایران سے تعلق رکھنے والی نوبی ٹیکس کرپٹو ایکسچینج کے علاوہ تین دیگر ایکسچینج کمپنیوں پر بھی پابندی کی منظوری دی گئی، جن کے بارے میں امریکہ کا خیال ہے کہ وہ پاسداران انقلاب IRGC اور ایرانی مرکزی بینک کے لیے مالیاتی لین دین کو آسان بنانے میں ملوث ہیں۔
رائٹرز نیوز ایجنسی کے مطابق امریکہ نے منگل کے روز ایران کے سب سے بڑے کرپٹو کرنسی ایکسچینج پر پابندیوں کا اعلان کرتے ہوئے اس پر ایرانی حکومت اور ریاستی اداروں کو مغربی پابندیوں سے بچنے کے لیے بلیک لسٹ کرنے کا الزام عائد کیا۔
نئی پابندیاں یکم مئی کو شائع ہونے والی رائٹرز کی ان تحقیقاتی خبروں کے بعد لگائی گئی ہیں جس میں بتایا گیا تھا کہ کس طرح نوبٹیکس ایک متوازی مالیاتی نظام میں محور بن گیا ہے جو ایران کے مرکزی بینک اور پاسداران انقلاب کے لیے سینکڑوں ملین ڈالر کے ٹرانزیکشن کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔رائٹرز کی رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا کہ کس طرح ایران میں حکومت کی طرف سے انٹرنیٹ کی بندش کے بعد بھی نوبیٹیکس Nobitex نے کام جاری رکھا، اور لاکھوں ڈالر کے لین دین کی کارروائیاں کیں۔
امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے ایک بیان میں کہا کہ "جب کہ ایران کی معیشت فری فال کا شکار ہے ، ایرانی حکومت اپنے کرپٹ ایجنڈے کے لیے ڈیجیٹل اثاثوں کی ٹیکنالوجیز کو اختیار کر رہی ہے۔ اس میں پابندیوں کو بائی پاس کرنااور دولت کو ملک سے باہر منتقل کرنا شامل ہے۔"
اطلاعات کے مطابق نوبیٹیکس Nobitex کے علاوہ، تین دیگر ایکسچینجز کو بھی امریکہ نے بلیک لسٹ کیا ہے۔
رائٹرز کی تحقیقات سے یہ سامنے آیا کہ نوبیٹیکس کو ایران کے سب سے طاقتور خاندانوں میں سے ایک کے دو بھائی کنٹرول کرتے ہیں، جن کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سے قریبی تعلقات ہیں۔ یہ دونوں اسلامی جمہوریہ ایران کے سب سے زیادہ بااثر خاندانوں میں سے ایک خرازی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ کارپوریٹ ریکارڈ سے پتہ چلتا ہے کہ جب نوبیٹیکس ایکسچینج نے کام شروع کیا تو اس کے مالک دونوں بھائیوں نے ایسا سر نیم استعمال کیا کو ان کی فیملی کے لوگ استعمال نہیں کرتے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: کویت پر ایرانی میزائل اور ڈرون حملے، بھارتی شہری ہلاک، متعدد زخمی
امریکہ وزارتِ خزانہ نے منگل کو اعلان کیا کہ دونوں بھائیوں، سید محمد علی آغامیر محمد علی اور سید محمد آغامیر محمد علی، اور ایکسچینج کے چیف ایگزیکٹو آفیسر، امیر حسین راد تینوں پر انفرادی حیثیت مین بھی پابندی لگا دی گئی ہے۔
امریکی ٹریژری نے بیان میں کہا کہ نوبیٹیکس نے ایرانی حکومت کو "اہم تعاون" فراہم کیا تھا اور پاسدادارن انقلاب اور ایران کے مرکزی بینک سے منسلک ڈیجیٹل لین دین کی "اہم تعداد" میں سہولت فراہم کی تھی۔ امریکی حکام کے مطابق "ایران میں امریکی جنگی کارروائیوں کے آغاز کے بعد،نوبیٹیکس نے انٹرنیٹ بلیک آؤٹ کے باوجود حکومت کی دولت کو بچانے کے لیے اثاثوں اور رقوم کو ایران سے باہر منتقل کرنے اور ان کی حفاظت میں کردار ادا کیا۔"
میڈیا رپورٹس کے مطابق رائٹرز کی تحقیقات کے دوران اپریل میں رائٹرز کو ای میل کیے گئے ایک بیان میں، نوبیٹیکس نے کہا تھا کہ اس کا براہ راست ایرانی حکومت سے کوئی تعلق نہیں ہے اور اس نے ریاست کی مدد کرنے کے الزام سے انکار کیا تھا۔ اس بیان میں کہا گیا کہ نوبیٹیکس کے ذریعے منتقل ہونے والے کسی بھی غیر قانونی فنڈ نے انتظامیہ کی منظوری یا آگاہی کے بغیر ایسا کیا ہو گا۔ کمپنی نے یہ بھی کہا کہ دونوں بھائیوں نے کبھی بھی متبادل شناخت استعمال نہیں کی اور نہ ہی اپنی شناخت تبدیل کی۔
ٹرمپ انتظامیہ کا تازہ ترین اعلان ایران کو معاشی تکلیف پہنچانے کے لیے کیے گئے کئی اقدامات میں سے ایک ہے۔ اس نے ایرانی حکومت سے تعلق رکھنے والے لوگوں، فرموں اور بحری جہازوں کے ساتھ کاروبار کرنے والے ممالک پر ثانوی اقتصادی پابندیاں بھی عائد کر دی ہیں - ان پابندیوں کی زد میں متحدہ عرب امارات جیسے اتحادی اور چین جیسے حریف ممالک کے لوگ بھی آئے ہیں۔ متعدد بینکوں کو ایرانی کرنسی کو سنبھالنے کے بارے میں انتباہات موصول ہوئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: گھریلو گیس صارفین کیلئے اچھی خبر ہے، علی پرویز ملک
اور پچھلے ہفتے، امریکہ نے ایران کی نئی بنائی گئی خلیج فارس آبنائے اتھارٹی پر پابندیاں عائد کیں، ایران کی اس نئی ایجنسی کا مقصد تنگ آبنائے ہرمز کے ذریعے جہاز رانی کو کنٹرول کرنا ہے۔ امریکہ کی وزارت خزانہ نے اس ایجنسی کو "بین الاقوامی جہاز رانی کو لوٹنے کی اسکیم" قرار دیا۔
اس دوران امریکی فوج ان تجارتی جہازوں کو روک رہی ہے جو ایرانی بندرگاہوں کی امریکی زیر قیادت ناکہ بندی کو توڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ 28 فروری کو امریکی اور اسرائیلی حملوں سے مشرق وسطیٰ میں جنگ شروع ہونے کے بعد ایران نے آبنائے کو مؤثر طریقے سے بند کر دیا تھا لیکن امریکہ نے ایران کی بحری ناکہ بندی 17 اپریل کو شروع کی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: صدر ٹرمپ نے دس فیصد گلوبل ٹیرف لگا دیا، نئی ٹیرف وار چھڑنےکاخطرہ