مون سون چیلنجز، پروگرام ’’بنام سرکار‘‘ میں حکومت کو ہنگامی اقدامات کی بجائے جدید ٹیکنالوجی اپنانے پر زور
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24 نیوز )معروف پروگرام ’’بنام سرکار‘‘ میں اینکر زوہیب سلیم بٹ نے حکومت کو مون سون چیلنجز کے حوالے سے ہنگامی اقدامات کی بجائے جدید ٹیکنالوجی اپنانے پر زور دیا جبکہ پی ڈی ایم اے کے ڈائریکٹر کمیونیکیشن عمر جاوید نے مستقبل کے حوالے سے حکومتی اقدامات پر بریفنگ دی ۔
"بنامِ سرکار" کا آغاز ایک ایسے مسئلے سے کیا جو ہر سال مون سون کی آمد کے ساتھ لاکھوں شہریوں کے لیے تشویش کا باعث بنتا ہے۔ اضافی بارشیں، دریاؤں میں پانی کی بڑھتی ہوئی سطح، شہری علاقوں میں پانی جمع ہونے، نکاسی آب کے مسائل اور ممکنہ سیلاب سے نمٹنے کے لیے سرکاری ادارے کس حد تک تیار ہیں؟ کیا راوی میں اس سال بھی سیلاب کا خطرہ موجود ہے؟ کیا پاکستان میں بارش کے اضافی پانی کو محفوظ کرنے اور اسے کنٹرول کرنے کا مؤثر نظام موجود ہے؟
اس حوالے سے پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے ڈائریکٹر کمیونیکیشن عمر جاوید نے پروگرام میں شرکت کرتے ہوئے بتایا کہ پی ڈی ایم اے نے مون سون سیزن کے آغاز سے پہلے ہی تمام متعلقہ محکموں کو الرٹ کر دیا ہے اور صوبہ بھر میں ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے جامع پلان پر عمل درآمد جاری ہے۔
اُن کے مطابق ادارے کا ایمرجنسی آپریشن سینٹر چوبیس گھنٹے فعال رہتا ہے، جہاں محکمہ موسمیات، محکمہ آبپاشی، ضلعی انتظامیہ اور دیگر اداروں سے موصول ہونے والی معلومات کا مسلسل جائزہ لیا جاتا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے کی بروقت نشاندہی کی جا سکے۔انہوں نے بتایا کہ پی ڈی ایم اے میں جدید فلڈ مانیٹرنگ سسٹم نصب کیا گیا ہے، جس کی مدد سے دریاؤں میں پانی کی سطح، بارشوں کی شدت، ڈیموں میں پانی کی مقدار اور بالائی علاقوں سے آنے والے پانی کی مسلسل نگرانی کی جاتی ہے۔ یہ جدید نظام سیٹلائٹ ڈیٹا، موسمیاتی رپورٹس اور مختلف محکموں سے موصول ہونے والی معلومات کو یکجا کرکے صورتحال کا تجزیہ کرتا ہے۔ اگر کسی بھی مقام پر پانی خطرناک حد تک بڑھنے کا خدشہ ہو تو فوری طور پر متعلقہ اضلاع، ضلعی انتظامیہ، ریسکیو اداروں اور عوام کو الرٹ جاری کر دیا جاتا ہے۔
پروگرام میں راوی میں ممکنہ سیلاب کے حوالے سے سوال بھی اٹھایا گیا۔ اس پر عمر جاوید نے کہا کہ اس وقت راوی میں کسی بڑے سیلاب کی پیشگوئی نہیں کی گئی، تاہم مون سون کے دوران موسم کی صورتحال کسی بھی وقت تبدیل ہو سکتی ہے، اس لیے راوی سمیت تمام بڑے دریاؤں کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ دریائے راوی میں پانی کی صورتحال صرف مقامی بارشوں پر منحصر نہیں ہوتی بلکہ بھارت سے آنے والے پانی، بالائی علاقوں میں ہونے والی بارشوں اور دریائی نظام کی مجموعی صورتحال بھی اس پر اثر انداز ہوتی ہے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ عام تاثر یہ ہے کہ سیلاب صرف مون سون کی بارشوں سے آتا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ سیلاب کی کئی وجوہات ہوتی ہیں۔ شمالی علاقوں میں غیر معمولی بارشیں، گلیشیئر پگھلنے، بادل پھٹنے کے واقعات، دریاؤں میں اچانک پانی کا اضافہ، ڈیموں سے پانی کا اخراج اور ندی نالوں میں طغیانی بھی سیلاب کا سبب بن سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پی ڈی ایم اے پورے صوبے کی صورتحال کو ایک مربوط نظام کے تحت مانیٹر کرتا ہے۔
عمر جاوید نے بتایا کہ شمالی علاقوں میں اگر غیر معمولی بارشوں یا گلیشیئر پگھلنے کا خطرہ پیدا ہو تو پی ڈی ایم اے پیشگی الرٹ جاری کر دیتا ہے۔ اس کے بعد ضلعی انتظامیہ، ریسکیو 1122، محکمہ آبپاشی اور دیگر متعلقہ ادارے اپنی اپنی تیاری مکمل کر لیتے ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ حادثے یا قدرتی آفت کی صورت میں فوری کارروائی کی جا سکے۔
انہوں نے بتایا کہ کسی بھی قدرتی آفت سے نمٹنے میں صرف پی ڈی ایم اے ہی نہیں بلکہ کئی ادارے مشترکہ طور پر کام کرتے ہیں، شہری علاقوں میں بارش کے پانی کی نکاسی واسا کی ذمہ داری ہے، ریسکیو 1122 امدادی کارروائیاں انجام دیتا ہے، محکمہ آبپاشی دریاؤں، پشتوں اور بیراجوں کی نگرانی کرتا ہے جبکہ ضلعی انتظامیہ متاثرہ علاقوں میں انخلا، ریلیف کیمپس اور امدادی سرگرمیوں کو یقینی بناتی ہے، پولیس، محکمہ صحت، لوکل گورنمنٹ اور دیگر ادارے بھی اپنی اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے ہیں۔
پی ڈی ایم اے ان تمام اداروں کے درمیان رابطے کا مرکزی کردار ادا کرتا ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں بروقت فیصلے کیے جا سکیں۔رواں سال مون سون کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ موسمیاتی ماہرین کی پیشگوئی کے مطابق بعض علاقوں میں معمول سے کم جبکہ بعض علاقوں میں وقفے وقفے سے شدید بارشوں کا امکان موجود ہے، اس لیے کسی بھی پیشگوئی کو حتمی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث موسم میں اچانک تبدیلیاں معمول بنتی جا رہی ہیں، اسی لیے تمام اداروں کو الرٹ رکھا گیا ہے۔
پروگرام میں ایک اہم سوال یہ بھی اُٹھایا گیا کہ کیا پاکستان میں اضافی بارشوں کے پانی کو محفوظ کرنے یا کنٹرول کرنے کا کوئی جامع نظام موجود ہے؟ اس پر عمر جاوید نے کہا کہ اگرچہ نکاسی آب، ڈرینج اور فلڈ پروٹیکشن کے مختلف منصوبے موجود ہیں، تاہم بڑھتی ہوئی آبادی، موسمیاتی تبدیلیوں اور شدید بارشوں کے باعث موجودہ نظام کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ ماہرین بھی اس بات پر زور دیتے ہیں کہ بارش کے پانی کو ضائع ہونے کے بجائے ذخیرہ کرنے، نئے آبی ذخائر تعمیر کرنے اور شہری علاقوں میں جدید ڈرینج سسٹم قائم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ پانی کی قلت پر بھی قابو پایا جا سکے اور شہری سیلاب کے خطرات بھی کم ہوں۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق مون سون سیزن کے دوران تمام اضلاع میں ایمرجنسی رسپانس پلان نافذ کر دیا گیا ہے، مشینری، امدادی سامان، کشتیاں، ریسکیو ٹیمیں اور دیگر وسائل متعلقہ اضلاع میں پہلے ہی فراہم کیے جا چکے ہیں، جبکہ حساس علاقوں کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے۔پروگرام کے اختتام پر اینکر زوہیب سلیم بٹ نے کہا کہ قدرتی آفات کو روکا نہیں جا سکتا، لیکن بروقت منصوبہ بندی، جدید ٹیکنالوجی، مؤثر حکمت عملی اور اداروں کے درمیان مضبوط رابطہ کاری کے ذریعے ان کے نقصانات کو ضرور کم کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث پاکستان کو مستقبل میں مزید بڑے چیلنجز کا سامنا ہو سکتا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ حکومت صرف ہنگامی اقدامات تک محدود نہ رہے بلکہ بارش کے پانی کو محفوظ بنانے، نکاسی آب کے نظام کو جدید بنانے، دریاؤں کی نگرانی کے نظام کو مزید مضبوط کرنے اور عوام میں آگاہی پیدا کرنے کے لیے بھی عملی اقدامات کرے۔
زوہیب سلیم بٹ نے عوام سے اپیل کی کہ وہ مون سون کے دوران پی ڈی ایم اے، محکمہ موسمیات اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ ہدایات پر عمل کریں، افواہوں سے گریز کریں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری طور پر متعلقہ اداروں سے رابطہ کریں، کیونکہ بروقت احتیاط ہی کسی بھی بڑے نقصان سے بچاؤ کا بہترین ذریعہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں :پنجاب بھر میں بارش برسانے والا مون سون سسٹم کب داخل ہوگا؟