یوکرین تنازع کا حل اتنا آسان نہیں، ٹرمپ کا اعتراف، پاک بھارت جنگ رکوانے کا پھر ذکر
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ یوکرین کا تنازع انتہائی پیچیدہ صورتحال اختیار کر چکا ہے اور اس مسئلے کا حل آسان نہیں ہے۔
کابینہ اجلاس سے خطاب میں انہوں نے کہاکہ انہوں نے اب تک 8 جنگوں کو رکوانے میں کردار ادا کیا ہے، جبکہ روس یوکرین تنازع نویں جنگ ہوگی جس کے خاتمے کی کوششیں جاری ہیں۔
ٹرمپ نے بتایا کہ انہیں کہا گیا تھا کہ اگر وہ یہ جنگ رُکوا دیں تو انہیں نوبیل انعام دیا جائے گا مگر یوکرین کا معاملہ بہت زیادہ الجھا ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ میں نے 9ماہ میں 8 جنگیں روکوائیں، اب صرف ایک جنگ رہ گئی ہے، میں نے پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ رکوائی، امید ہے روس یوکرین جنگ بھی جلد رک جائے گی ، ہم نے محکمہ دفاع کا نام بدل کر محکمہ جنگ رکھا۔
انہوں نے یہ بھی کہاکہ بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی سمیت متعدد تنازعات کو کم کرنے میں انہوں نے اہم کردار ادا کیا اور اگر انصاف کیا جائے تو ہر رکی ہوئی جنگ پر انہیں نوبیل انعام ملنا چاہیے، لیکن وہ لالچ نہیں رکھنا چاہتے۔
ٹرمپ نے ذکر کیاکہ ایک نوبیل انعام یافتہ خاتون بھی اس بات کا اعتراف کر چکی ہیں کہ وہ اس ایوارڈ کے حقدار تھے اور وہ ان کے اس مؤقف کی قدر کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:کویت میں 6 سرکاری تعطیلات کا اعلان
اپنی گفتگو میں انہوں نے کہاکہ انہیں اعزازات کی خواہش نہیں، اصل فکر جنگوں میں ہونے والی قیمتی جانوں کے ضیاع کی ہے۔
امریکی صدر نے کہا کہ امریکا تیزی سے ترقی کررہا ہے،10ماہ میں 18ٹریلین کی سرمایہ کاری ہوئی، امریکا میں مہنگائی کم ہوئی،اسٹاک مارکیٹ میں تیزی آئی، ملک کی تاریخ کی بدترین مہنگائی وراثت میں ملی، پٹرول کی قیمت کو 2 ڈالر فی گیلن تک لے جا سکتے ہیں، ہم نے دوائیوں کی قیمتوں میں ریکارڈ کمی کی، میری ٹیم نے 800 فیصد تک ادویات کی قیمتیں کم کروائیں ۔
ان کا کہناتھا کہ روس یوکرین 9ویں جنگ ہوگی جو میں رکواؤں گا، روس اور یوکرین جنگ کی صورتحال آسان نہیں ،بہت پیچیدگیاں ہیں، گذشتہ ماہ روس یوکرین جنگ میں 27ہزار لوگ مارے گئے۔
مزید برآں صدر ٹرمپ نے اعلان کیا کہ لوزیانا اور نیو اورلینز میں قومی گارڈز تعینات کیے جائیں گے اور یہ اقدام آئندہ دو ہفتوں کے اندر مکمل ہو جائے گا۔
مزید پڑھیں:سول جج سید جہانزیب بخاری نےاستعفی دے دیا
دوسری جانب روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے یورپی ممالک کو سخت تنبیہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر یورپ نے جنگ چھیڑنے کا فیصلہ کیا تو روس تیسری عالمی جنگ کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
عالمی میڈیا کے مطابق پیوٹن نے کہاکہ روس کی یورپ سے لڑائی کی کوئی خواہش نہیں، اور وہ یہ بات متعدد بار دہرا چکے ہیں، تاہم اگر یورپی ممالک نے محاذ آرائی پر اصرار کیا تو روس جواب دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔
پیوٹن نے خبردار کیاکہ حالات نہایت تیزی سے اس سطح تک جا سکتے ہیں جہاں مذاکرات کا کوئی امکان باقی نہیں رہے گا۔