اسرائیل کا گلوبل صمود فلوٹیلا پردھاوا، عملے کے ارکان کو حراست میں لے لیا
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز)اسرائیل نے گلوبل صمود فلوٹیلا پر دھاوا بول کرعملے کے ارکان کو حراست میں لے لیا۔
گلوبل صمود فلوٹیلا میں شامل جہازوں کی کئی لائیو فیڈز بند ہو گئیں، کئی فلوٹیلا جہازوں سے رابطہ منقطع بھی ہوگیا۔
اسرائیلی وزارت خارجہ کے مطابق فلوٹیلا ارکان کو آگاہ کر دیا تھا کہ وہ جنگی علاقے کے قریب ہیں، گلوبل فلوٹیلا کو خبردار کیاتھا وہ وار زون میں نہ جائیں، گلوبل فلوٹیلا نے بحری ناکہ بندی کی خلاف ورزی کی۔
قبل ازیں غزہ کے لیے امداد لے جانے والی بین الاقوامی فلوٹیلا نے بدھ کی صبح کہا تھا کہ جیسے جیسے وہ منزل کے قریب پہنچ رہے ہیں ان کے اوپر ڈرونز کی سرگرمی میں اضافہ ہو رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:امریکا میں شٹ ڈاؤن، ناسا سمیت کئی محکمے بند،ہزاروں ملازمین فارغ
عرب میڈیا کے مطابق صمود فلوٹیلا میں 40 سے زائد کشتیوں پر تقریباً 500 انسانی حقوق کے کارکنان، پارلیمنٹیرینز، وکلا اور صحافی سوار تھے جو غزہ کے عوام تک ادویات اور خوراک پہنچانے کے مشن پر روانہ ہوئے تھے، فلوٹیلا اس وقت جنگ زدہ علاقے سے تقریباً 90 میل دور تھا جب اسرائیلی بحریہ نے اس کا گھیراؤ کرلیا۔
اسرائیلی وزارت خارجہ نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر کہا کہ صمود فلوٹیلا کے جہازوں کو بحفاظت روک دیا گیا ہے اور گرفتار کارکنان کو اسرائیلی بندرگاہ اشدود منتقل کیا جا رہا ہے۔ وزارت نے ایک ویڈیو بھی جاری کی، جس میں گریٹا تھنبرگ کو لے جاتے دکھایا گیا ہے۔
دوسری جانب صمود فلوٹیلا انتظامیہ نے تصدیق کی کہ صیہونی فوجی کشتیوں پر سوار ہو گئے اور جہازوں پر نصب کیمروں کو بھی بند کر دیا، فلوٹیلا کی اسٹیئرنگ کمیٹی کی رکن یاسمین آقار نے کہا کہ اسرائیلی بحری جہازوں نے ہماری کشتی الما کو گھیر لیا ہے، ہم روک لیے جانے کے لیے تیار ہیں۔
اسرائیلی وزارت خارجہ کی ویڈیو میں ایک نیول افسر فلوٹیلا کو راستہ بدل کر اشدود کی بندرگاہ جانے کا کہہ رہا ہے تاکہ امداد کی سیکیورٹی کلیئرنس کے بعد اسے غزہ بھیجا جا سکے، تاہم فلوٹیلا کے منتظمین نے اس پیشکش کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے اور عالمی عدالت انصاف کے فیصلے کے مطابق انسانی ہمدردی کی امداد کو روکنا غیر قانونی ہے۔
فلوٹیلا کے ایک مسافر خوسے لوئس یبوت نے ویڈیو پیغام میں کہا کہ ہمارے اردگرد تقریباً دو درجن اسرائیلی جہاز ہیں، وہ ہمیں گرفتار کرنے آ رہے ہیں۔
گلوبل صمود فلوٹیلا کے قافلے میں شامل کشتی Mikeno پر سوار عرب صحافی حسن مسعود نے سوشل میڈیا پر جاری ایک ویڈیو میں دعویٰ کیا کہ ان کی کشتی غزہ کی سمندری حدود میں داخل ہو چکی ہے۔
اٹلی کے وزیر خارجہ انتونیو تاجانی نے کہا کہ اسرائیلی وزیر خارجہ نے یقین دہانی کرائی ہے کہ کارکنوں کے خلاف تشدد استعمال نہیں کیا جائے گا، تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ کشتیوں پر موجود غیر ملکی شہریوں کو ممکنہ طور پر اسرائیل منتقل کرنے کے بعد ملک بدر کر دیا جائے گا۔
اٹلی کی سب سے بڑی یونین نے بھی فلوٹیلا پر اسرائیلی کارروائی کے خلاف عام ہڑتال کا اعلان کر دیا ہے، یونین کا کہنا ہے کہ اسرائیل جان بوجھ کر خوراک، ادویات اور ضروری سامان کو غزہ میں داخلے سے روک رہا ہے، جس سے بچے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔
گلوبل صمود فلوٹیلا کے ترجمان سیف ابو کشیک نے انسٹاگرام پر ایک ’مشن اپ ڈیٹ‘ جاری کی جس میں تصدیق کی گئی کہ اسرائیلی افواج نے سمندر میں 13 کشتیوں کو روک لیا ہے، گرفتاریوں کے باوجود گروپ کا مشن جاری ہے اور جہاز اب بھی بحیرۂ روم کے راستے غزہ کا محاصرہ توڑنے کے لیے رواں دواں ہیں۔
ابو کشیک کے مطابق فلوٹیلا کے تقریباً 24 جہاز ہیں جو اب بھی قابض افواج کے فوجی جہازوں سے بچتے ہوئے غزہ کے ساحل تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
فلوٹیلا میں شامل امریکی کارکن لیلیٰ ہیگزی کا پہلے سے ریکارڈ شدہ پیغام سوشل میڈیا پر جاری کیا گیا، جس میں انہوں نے کہاکہ اگر آپ میری ویڈیو دیکھ رہے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ مجھے اسرائیلی فوج نے اغوا کر لیا ہے، یہ اقدام غیر قانونی ہے، میں عالمی برادری اور امریکی حکومت سے مطالبہ کرتی ہوں کہ فلسطینی عوام کی نسل کشی میں اسرائیل کی حمایت بند کی جائے اور تمام کارکنوں کی بحفاظت واپسی کو یقینی بنایا جائے۔
گلوبل صمود فلوٹیلا میں شامل پاکستانی وفد میں سینیٹر مشتاق احمد خان نے گزشتہ روز اپنے ایکس اکاؤنٹ پر جاری ویڈیو پیغام میں کہا تھا کہ ہم غزہ سے مزید قریب ہو گئے ہیں اور اب ہمیں دور سے اسرائیلی جہاز اپنی جانب آتے دکھائی دے رہے ہیں۔