ہماری اولین ترجیح وسائل کے شفاف اور درست استعمال کو یقینی بنانا ہے:وزیراعلیٰ بلوچستان

Nov 02, 2025 | 21:07:PM
ہماری اولین ترجیح وسائل کے شفاف اور درست استعمال کو یقینی بنانا ہے:وزیراعلیٰ بلوچستان
سورس: Google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24 نیوز)وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان کے عوام کی خدمت کے لیے صوبے کے ہر کونے میں جانے کو تیار ہوں، وسائل کی کمی ہو تو پیدل بھی عوام تک پہنچوں گا۔

سرفراز بگٹی نے سنجاوی میں عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے وسائل اور مسائل سب کے سامنے ہیں، صوبائی حکومت کی اولین ترجیح وسائل کے شفاف اور درست استعمال کو یقینی بنانا ہے۔

وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ تحصیل ہیڈ کوارٹر اسپتال سنجاوی کو 20 بستروں پر مشتمل مثالی طبی ادارے میں تبدیل کیا جائے گا، سنجاوی کے اسپتال کو بیکڑ کی طرز پر پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت فعال کیا جائے گا۔

انھوں نے کہا کہ سنجاوی کے بوائز اور گرلز کالجز کے لیے علیحدہ عمارتوں کی تعمیر اور دو بسوں کی فراہمی کا فیصلہ، سنجاوی میں افسران و اہلکاروں کے لیے نیا انتظامی کمپلیکس تعمیر کیا جائے گا۔

سرفراز بگٹی نے کہا کہ زیارت کے 14 غیر فعال سکول موسمِ سرما کی تعطیلات کے بعد مکمل طور پر فعال ہوں گے، محکمہ تعلیم میں بھرتیاں سو فیصد میرٹ پر کی جا رہی ہیں۔

وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ میرٹ کی خلاف ورزی کی نشاندہی کی جائے یقین دلاتے ہیں  فوری کارروائی ہوگی، لیویز کو پولیس میں ضم کرنے کا فیصلہ بظاہر غیر مقبول مگر وقت کی ضرورت ہے۔

انھوں نے کہا کہ سنجاوی میں عوامی مطالبے پر چار نئے پولیس اسٹیشنز قائم کیے جائیں گے، سنجاوی میں بائی پاس اور نشاندہی کردہ 15 کلومیٹر نئی سڑک تعمیر کی جائے گی۔

سرفراز بگٹی نے کہا کہ سنجاوی کے لیے لینڈ سیٹلمنٹ کے عمل کا آغاز کیا جائے گا، بلوچستان بھر میں انتظامی حدود کا ازسرِ نو تعین کیا جا رہا ہے، زیارت میں نئے ضلع کے قیام پر اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے سنجیدہ غور کیا جا رہا ہے۔

وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ جو وعدہ کیا ہے وہ پورا کیا ہے، کوئی ایسا وعدہ نہیں کریں گے جو پورا نہ ہو، سنجاوی کے طلبا کے لیے کیڈٹ کالج زیارت میں دو نئے بلاکس اور چار بسوں کی فراہمی کا اعلان کرتا ہوں، عوام کے اعتماد پر پورا اترنے کی ہر ممکن کوشش کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں :حکومت نہ بھی ہوتو جماعت اسلامی کام کرتی ہے؛ حافظ نعیم الرحمان