پنجاب بھر میں پرانے ، بڑے درختوں کی کٹائی غیر قانونی قرار
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24 نیوز )پنجاب بھر میں بڑے اور پرانے درختوں کو تحفظ دینے کے لیے صوبائی حکومت نے قانون سازی کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے تحت ایسے درختوں کی کٹائی کو غیر قانونی قرار دیا جائے گا، یہ اعلان ڈائریکٹر جنرل راجہ منصور احمد نے پبلک پارکس، گرین بیلٹس اور گرین ایریاز پروٹیکشن اینڈ ریگولیٹڈ ایمرجنسی ٹرانسپلانٹیشن ریگولیشنز 2026ء پر غور کے لیے منعقدہ اجلاس میں کیا۔
انہوں نے بتایا کہ یہ ریگولیشنز پنجاب ہارٹی کلچر اتھارٹی ایکٹ 2025ء کے تحت نافذ کیے گئے ہیں جو درختوں، باغات اور گرین بیلٹس کے تحفظ کا احاطہ کرتے ہیں، نئے قواعدوضوابط کے تحت 36 انچ سے زیادہ موٹے تنے والے، 30 سال یا اس سے زیادہ عمر کے کسی بھی درخت کو ہیریٹیج ٹری قرار دیا جائے گا، ایسے درختوں کو بغیر اجازت کاٹا یا نقصان نہیں پہنچایا جا سکے گا، انہیں صرف ناگزیر وجہ جیسے حفاظتی ایشو یا سنگین بیماری اور صرف تکنیکی کمیٹی کی منظوری کے بعد کاٹا جا سکے گا۔
راجہ منصور احمد نے کہا کہ جہاں درخت کاٹنا ناگزیر ہو وہاں ہر کٹے ہوئے درخت کے بدلے کم از کم 20 نئے پودے لگانے ہوں گے اگر منتقل کیا گیا درخت مر جائے تو یہ تعداد بڑھ کر 50 پودے فی درخت ہو جائے گی، تمام متبادل درخت مقامی اور موسمیاتی تبدیلیوں کے لیے موزوں اقسام کے ہونے چاہئیں اور انہیں کم از کم تین سال تک باقاعدہ دیکھ بھال فراہم کی جائے گی۔
ہر ضلعی ہارٹی کلچر ایجنسی آزاد ماہرین پر مشتمل ایک تکنیکی کمیٹی تشکیل دے گی جو درخت کو ہٹانے، کاٹنے چھانٹنے یا منتقل کرنے کی ہر درخواست کا جائزہ لے گی،باغات اور گرین بیلٹس کو تجاوزات، تجارتی استعمال اور ماحولیاتی نقصان سے محفوظ رکھا جائے گا۔
راجہ منصور احمد نے کہا کہ یہ ضوابط پنجاب کی سبز فضا کو ایک پائیدار اور قابل پیمائش انداز میں بڑھانے کے وسیع تر ادارہ جاتی عزم کا حصہ ہیں۔ سبز علاقے عوام کی ملکیت ہیں اور محکمہ ان کے محافظ کی حیثیت سے اپنی ذمہ داری کو انتہائی سنجیدگی سے لیتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : پیٹرول اورڈیزل کی قیمتیں بڑھیں گی یانہیں؟اہم اعلان کل ہوگا