پاکستانی نژاد برطانوی شہری اور سابق میئر کو بیٹے سمیت جیل بھیج دیا گیا

May 01, 2026 | 22:42:PM
پاکستانی نژاد برطانوی شہری اور سابق میئر کو بیٹے سمیت جیل بھیج دیا گیا
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(اسد علی)پاکستانی نژاد برطانوی شہری اور سابق میئر کو پولیس کے کام میں رکاوٹ اور اس کے جواں سالہ بیٹے کو عصمت دری کے الزام میں جیل بھیج دیا گیا ہے۔

 2023 میں بریک نیل فاریسٹ کونسل سے پہلی مسلمان مئیر منتخب ہونے والی 61 سالہ ناہید  اعجاز کوونچسٹر کراؤن کورٹ میں ایک مقدمے کی سماعت کے دوران انصاف کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے اور شواہد چھپانے  کا قصوروار پایا جانے کے بعد تین سال کے لیے جیل بھیج دیا گیا۔برطانوی پولیس کی رپورٹ کے مطابق ناہید اعجاز کے 41 سالہ بیٹے دیواس خان کو ستمبر 2024 میں 15 سالہ کم سن لڑکی کے ساتھ زیادتی کے الزام کے سلسلہ میں اس کے گھر چھاپہ مارا۔پولیس کو دروازہ پر اس کی والدہ نے روکا اور اردو زبان میں اپنے بیٹے کو موبائل اور لڑکی کے ساتھ بنائی گئی ویڈیو کو ضائع کرنے کا کہا۔پولیس نے دیواس خان کو گرفتار کیا اور الزامات ثابت ہونے پر عدالت کی جانب سے 13 سال کی جیل کی سزا سنائی گئی۔

پولیس نے دیواس خان کی والدہ  ناہید اعجاز کے خلاف انصاف کی راہ میں رکاوٹ اور شواہد کو ضائع کرنے میں مدد کرنے پر تحقیقات کی اور شواہد عدالت کے سامنے پیش کیے جس پر عدالت نے سابقہ مئیر ناہید اعجاز کو 3 سال کے لئے جیل بھیج دیا۔سابقہ مئیر کے خلاف عدالتی سزا کے بعد بریکنل فاریسٹ کونسل نے بطور سابقہ مئیر اس کی تصویر کونسل کی سرکاری لائبریری سے ہٹا دی۔

پولیس سابقہ مئیر اور اس کے بیٹے کو ٹیکسی لائسنس کے اجرا کی بھی تحقیقات کر رہی ہیں کیونکہ دیواس خان کئی قبل منشیات کے کیس میں بھی سزا یافتہ تھا اور اس کی سرگرمیاں مسلسل مشکوک تھیں۔

یہ بھی پڑھیں:لاہور میں گلبرگ کالج کی طالبہ پراسرار طور پر لاپتہ

دیگر کیٹیگریز: دنیا
ٹیگز: