قبائلی سرداری نظام اور شناختی دستاویزات کی تصدیق سے متعلق اہم فیصلہ

May 01, 2026 | 12:11:PM
 قبائلی سرداری نظام اور شناختی دستاویزات کی تصدیق سے متعلق اہم فیصلہ
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

( امانت گشکوری)وفاقی آئینی عدالت نے قبائلی سرداری نظام اور شناختی دستاویزات کی تصدیق سے متعلق اہم کیس کا فیصلہ جاری کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ کسی قبائلی سردار کو شناختی کارڈ یا ڈومیسائل کی تصدیق کا قانونی اختیار حاصل نہیں۔
وفاقی آئینی عدالت کے فیصلے کے مطابق قبائلی سردار شناختی کارڈ اور ڈومیسائل کی تصدیق کے اہل نہیں،شناختی کارڈ، ڈومیسائل کا اجراء باقاعدہ قانون کے مطابق کیا جاتا ہے،شناختی دستاویزات کی تصدیق کیلئے قانون میں مجاز حکام کو ہی اختیار دیا گیا ہے۔
وفاقی آئینی عدالت کے مطابق کسی قبائلی سردار کو قانون سے ہٹ کر دستاویزات کی تصدیق کا اختیار نہیں دیا جا سکتا، قانون کے مطابق سرداری نظام 1976 میں ختم ہوچکا ہے، قبائل کا سرداری نظام علاقائی روایت ہے اس کی قانونی حیثیت نہیں، علاقائی روایت کی عدالتی توثیق نہیں کی جا سکتی،درخواست گزار متاثرہ فریق نہیں اس لیے اپیل قابل سماعت نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیں: تنخواہوں میں 7اورپنشن میں5فیصداضافے کاامکان
 وفاقی آئینی عدالت نے فیصلے میں کہاکہ درخواست گزار غلام علی کے مطابق وہ خروٹی قبیلے کا سردار ہے، درخواست گزار کے مطابق اس کے قبیلے کے افراد کیلئے دستاویزات کی تصدیق کروانا ناممکن عمل ہے، شناختی دستاویزات سے محروم کیا گیا متاثرہ شخص ہی عدالت سے رجوع کرنے کا اہل ہے۔
جسٹس روزی خان نے 12 صفحات پر مشتمل فیصلہ تحریر کیا،بلوچستان خروٹی قبیلے کے سردار غلام علی نے بلوچستان ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف اپیل دائر کی تھی۔