کراچی کے ہِل پارک کی زمین پر قبضہ کا سکینڈل؛ مرتضیٰ وہاب نیا انکشاف سامنے لے آئے

Jun 01, 2026 | 22:29:PM
  کراچی کے ہِل پارک کی زمین پر قبضہ کا سکینڈل؛ مرتضیٰ وہاب نیا انکشاف سامنے لے آئے
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک)  کراچی  میں ’ہل پارک‘ کی زمین کے معاملے نے شہر کی سیاست میں ایک نیا محاذ کھول دیا ہے، جس کے باعث پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم پاکستان اور جماعت اسلامی کے مابین آویزش میں نیا ڈرامائی موڑ آ گیا ہے۔ 

آج ہل پارک تجاوزات انکوائری کے حوالے سے میئر  مرتضیٰ وہاب نےانکشاف کیا ہے کہ  پیش کیا گیا پلاٹ تو اصل لے آؤٹ پلان میں موجود ہی نہیں ہے۔

کراچی کے تاریخی تفریحی مقام ہل پارک  پر تجاوزات کے تنازعہ کو لے کر  کراچی کی مقامی سیاست مین اچانک گرمی کی نئی لہر اٹھی ہے۔  آج صورتحال میں اس وقت ڈرامائی موڑ آ گیا جب مرتضیٰ وہاب نے نیا سنسنی خیز انکشاف کر کے عوام کو چونکا دیا۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مرتضیٰ وہاب نے  ہل پارک پر تعمیرات کرنے والے نے پی ای سی ایچ ایس کی لیز دستاویزات پیش کر دیں۔

مرتضیٰ وہاب نے بتایا کہ اصل لے آؤٹ پلان کے مطابق متنازعہ پلاٹ نمبر کا کوئی وجود ہی نہیں ہے، 1974کے نوٹیفکیشن کے مطابق  ہِل پارک کا مجموعی رقبہ تقریباً56ایکڑ  ہے۔

مرتضیٰ وہاب نے بتایا کہ کےایم سی نے پارک کی اراضی کبھی کسی فرد یا ادارے کو الاٹ نہیں کی، اراضی کے تعین اور حقائق جاننے کیلئے کے ایم سی نے باقاعدہ لینڈ سروے شروع کردیا ہے۔

 کراچی کے مئیر مرتضیٰ وہاب  نے متنبہ کیا کہ اگر پی ای سی ایچ ایس نے لےآؤٹ پلان کی خلاف ورزی کی توسخت کارروائی ہوگی، ہل پارک کی زمین پر قبضہ یا غیرقانونی تعمیرات کسی صورت برداشت نہیں کی جائیں گی۔

مرتضیٰ وہاب نے مزید کہا کہ کے ایم سی ہل پارک کی اراضی کے تحفظ کیلئے ہرقانونی اور انتظامی اقدام اٹھائے گی، پارک  کی اراضی سے متعلق تمام حقائق سامنے لانے کیلئے انکوائری اور سروے جاری ہے۔

ہل پارک کی اراضی پر قبضہ یا قبضہ کی کوشش کا کیا تنازعہ ہے؟
 کراچی میں ہل پارک کی سرکاری اراضی پر جعلی دستاویزات اور بوگس این او سی (NOC) کے ذریعے غیر قانونی تعمیرات اور قبضے کی کوشش کا تنازعہ کچھ روز پہلے سامنے آیا ہے۔ مئی کے آخر میں پیپلز پارٹی کے مئیر مرتضیٰ وہاب کی قیادت میں کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (KMC) نے اس کارروائی کو بے نقاب کرتے ہوئے وہاں جاری متنازعہ قبضہ کی سرگرمی کو روک دیا اور وہاں جاری تعمیراتی کام کو فوری طور پر بند کروا دیا ہے۔

جعلی دستاویزات کا استعمال
اس تنازعے کی  اب تک سامنے آنے والی تفصیل کے مطابق   قبضہ کرنے میں ملوث افراد نے 21 اپریل کو  لینڈ ڈیپارٹمنٹ کا ایک جعلی این او سی (NOC) پیش کر کے ہل پارک کی انتظامیہ پر دباؤ ڈالنے اور تعمیرات کو قانونی ثابت کرنے کی کوشش کی۔


کے ایم سی کی تصدیق

کراچی میونسپل کارپوریشن کے ڈائریکٹر لینڈ  کے مطابق محکمہ لینڈ نے ایسی کوئی این او سی یا اجازت نامہ جاری نہیں کیا تھا، اور پارک کی زمین پر ہونے والی تمام سرگرمیاں سراسر غیر قانونی ہیں۔ 


 انتظامیہ کا ایکشن
میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب کی ہدایت پر کے ایم سی کے عملے نے ہل پارک کے اطراف جاری تمام غیر قانونی تعمیراتی کام کو روک دیا ہے۔ 


تعمیراتی سامان کی ضبطگی

 ہل پارک انتظامیہ نے کارروائی کرتے ہوئے موقع سے تمام  تعمیراتی سامان بھی ضبط کر لیا ہے تاکہ قبضے کی اس کوشش کو ناکام بنایا جا سکے۔ 

یہ بھی پڑھیں:  کشمور میں طوفانِ باد و باراں سے تباہی،  دو افراد جاں بحق،گھر، دیواریں، کھمبے، ٹرانسفارمر، سولر پینل گر گئے