ایران کے پاس افزودہ یورینیم کی موجودگی میں اسرائیل جنگ بند نہیں کرےگا، العربیہ نیوز
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک) امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ امریکہ ایران کے ساتھ جنگ بند بھی کر دے تو اسرائیل جنگ بند نہیں کرے گا۔
العربیہ نیو ز نے آج 31مارچ کو اپنی ایک رپورٹ میں اسرائیلی نیوز چینل 12 سے شائع ہونے والی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ایک اسرائیلی اہلکار نے کہا کہ ایران میں افزودہ یورینیم کے بغیر جنگ کا خاتمہ ایک سنگین ناکامی کے مترادف ہوگا۔
چینل 12 کے مطابق اس اہلکار نے مزید کہا کہ ’’تل ابیب فی الحال جنگ ختم نہیں کرنا چاہتا کیونکہ وہ مکمل فتح کی تلاش میں ہے، جو صرف ایران کی میزائل اور جوہری صلاحیتوں کے خاتمے کے ذریعے ممکن ہے، اور یہ ایک نہایت پیچیدہ معاملہ ہے۔‘‘
چینل 12 نے ایک اور اسرائیلی سرکاری ذریعے نکو یہ کہتے بتایا کہ ایرانی جوہری فائل اب امریکہ کےصدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اختیار میں ہے۔
تو پھر ٹرمپ کے پاس کیا خفیہ ہے؟
صدر ڈونلڈ ٹرمپم مذاکرات کے ساتھ ساتھ ایران کے اندر تقریباً 1000 پاؤنڈ خطرناک حد تک افزودہ کی جا چکی یورینیم حاصل کرنے کے لیے ایک خاص الخاص فوجی آپریشن کرنے پر غور کر رہے ہیں، جیسا کہ امریکی اہلکاروں نے انکشاف کیا ہے۔
امریکی اہلکاروں کے مطابق ٹرمپ اس بات کا بھی جائزہ لے رہے ہیں کہ امریکی فوج کو اس کارروائی میں کس حد تک خطرہ ہو سکتا ہے، تاہم وہ عمومی طور پر اس خیال کے لیے کسی حتمی فیصلہ سے دور ہیں۔ یہ ان کے بنیادی مقصد یعنی ایران کو کبھی جوہری ہتھیار بنانے سے روکنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیئے: کویتی آئل ٹینکر، دبئی کے سویلین، شارجہ کی ٹیلی کام کمپنی ایرانی حملوں سے متاثر
ایک باخبر ذریعہ نے بتایا کہ ٹرمپ نے اپنے مشیروں کو ایران پر دباؤ ڈالنے کی ہدایت کی ہے تاکہ وہ جنگ کے خاتمے کے بدلے خود تمام نیوکلئیر مواد کی سپلائی پر راضی ہو جائیں۔
انہوں نے اپنے سیاسی حلیفوں کے ساتھ بات چیت میں یہ بھی واضح کیا کہ ایرانی اس مواد (افزودہ ہو چکی یورینیم) کو نہیں رکھ سکتے اور اگر ایرانی حکومت مذاکرات کے ذریعے اسے دینے سے انکار کرے تو اس پر زبردستی قبضہ کرنے کے امکانات پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔
یہ اعلیٰ افزودہ یورینیم کہاں موجود ہے؟
امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے پچھلے سال جون (2025) میں ایران پر فضائی حملوں سے قبل خیال کیا جاتا تھا کہ تہران کے پاس تقریباً 400 کلوگرام 60 فیصد افزودہ یورینیم موجود تھا اور تقریباً 200 کلوگرام 20 فیصد افزودہ تقسیم شدہ مواد بھی تھا۔یہ مواد آسانی سے 90 فیصدافزودہ یورینیم میں تبدیل کیا جا سکتا ہے، جو براہِ راست ہتھیار بنانے کے لیے استعمال ہو سکتا ہے۔ آئی اے ای اے کے ذرائع تہران کی افزودہ یورینیم کی مقدار 972 پاؤنڈ بتاتے رہے ہیں۔
اصفہان اور نطنز کی زیر زمین لیبارٹریاں؛ ایک سرنگ اور سٹوریج ہال
بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے جنرل ڈائریکٹر رافائل گروسی نے بتایا کہ اُن کا خیال ہے کہ افزودہ یورینیم بنیادی طور پر دو مقامات پر موجود ہے، جو گزشتہ سال جون میں امریکی اور اسرائیلی حملوں کے نشانے پر تھے۔ یہ مقامات اصفہان کے جوہری کمپلیکس میں زیرِ زمین ایک سرنگ جبکہ نطنز میں ایک سٹوریج ہال ہے۔
اصفہان میں نطنز جوہری تنصیب کی سیٹلائٹ تصویر (آرکائیو - رائٹرز)
محتاط ، خطرناک اور دقیق آپریشن
امریکہ کی فورسز نے امریکہ کے ایٹمی طاقت بننے کے بعد سے اب تک کسی ملک سے نیوکلئیر مواد کو زبردستی اٹھا کر لے جانے کے لئے کوئی ایڈوینچر نہین کیا۔ ایران مین ایسا کرنے کی جو پلاننگ کی جا رہی ہے وہ اپنی نوعیت کی پہلی کوشش ہے۔
امریکہ کی ٹرمپ انتظامیہ میں اس معاملہ سے ایک باخبر شخص نے بتایا کہ ٹرمپ نے نجی اجلاسوں میں کہا کہ یہ مواد ایک دقیق اور محدود وقت والا آپریشن کے ذریعے حاصل کیا جا سکتا ہے، جو جنگ کے دورانیے کو زیادہ طول نہیں دے گا۔ اور امریکہ کا اندازہ ہے کہ وہ تنازعہ کو اپریل کے وسط تک ختم کر سکے گا، جیسا کہ "وال اسٹریٹ جرنل" نے اپنی ایک حالیہ رپورٹ میں رپورٹ کیا۔
یہ بھی پڑھیئے: امریکی فوج ایران میں زمینی کارروائی کرے گی یا نہیں؟ اربوں روپے کا جوا لگ گیا
ساتھ ہی سابق امریکی فوجی افسران اور ماہرین نے خبردار کیا کہ یورینیم پر زبردستی قبضہ کرنا ایک نہایت پیچیدہ اور خطرناک آپریشن ہوگا اور یہ شاید ٹرمپ کی سب سے مشکل فوجی ہدایات میں سے ایک ہو۔
ان کے مطابق اس ممکنہ کارروائی کے دوران پاسداران کی جانب سے سخت ردعمل متوقع ہے، جس سے جنگ کا دورانیہ بڑھ سکتا ہے، جو ٹرمپ کی پہلے سے مقرر کردہ 4 سے 6 ہفتوں کی حد سے تجاوز کر سکتا ہے۔
عملی پہلوؤں کے مطابق امریکی فورسز کو ان مقامات تک پہنچنے کے لیے جہاں غالباً ایرانی میزائل اور ڈرونز موجود ہوں، فضائی راستہ اختیار کرنا ہوگا۔
زیر زمین گمشدہ سٹوریج، سرنگ تک پہنچنا، مواد باہر لانا
موقع پر پہنچنے کے بعد فوج کو اردگرد کا محاصرہ قائم کرنا ہوگا تاکہ انجینئرز ملبہ ہٹانے، بارودی سرنگوں اور دیگر خطرناک چیزوں کی جانچ کر سکیں۔
اس کے علاوہ افزودہ یورینیم نکالنے کے لیے خصوصی تربیت یافتہ ایلیٹ فورسز کو تعینات کرنا پڑے گا تاکہ وہ جنگ زدہ اور ٹوٹ پھوٹ چکی تعمیرات کے اندر سے تابکار مواد تک محفوظ طریقے سے پہنچ سکین اور اسے نکال کر ساتھ لے جا سکیں۔ یہ کام ہالی ووڈ کی کسی تھرلر مووی میں نظر آنے والے اس سے ملتے جلتے کسی بھی مشن سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہو گا۔
چالس یا پچاس سلنڈر
امکان ہے کہ یہ مواد 40 سے 50 خصوصی سلنڈروں میں محفوظ ہو، جو عام طور پر غوطہ خور سلنڈروں کی طرح ہوں، اور انہیں محفوظ ٹرانسپورٹ کنٹینرز میں منتقل کرنا پڑے گا، جس کے لیے کئی ٹرک درکار ہو سکتے ہیں، جیسا کہ کولمبیا یونیورسٹی کے سینئر محقق اور سابق امریکی ایرانی جوہری مذاکرات کار رچرڈ نیویو نے بتایا۔
اگر کسی وجہ سے ایئر سٹرپ دستیاب نہ ہو، تو ایک عارضی لینڈنگ اسٹریک قائم کرنا پڑے گا تاکہ آلات لائے جا سکیں اور جوہری مواد نکالا جا سکے۔
یورینیم کے سلنڈر نکالنا
پلاننگ کرنے والوں کا اندازہ ہے کہ یہ چند دنوں سے لے کر ایک ہفتے تک جاری رہنے والا آپریشن ہو سکتا ہے۔
ماہرین نے تصدیق کی ہے کہ یہ پورا آپریشن چند دنوں تک یا ایک ہفتے تک جاری رہ سکتا ہے۔ امریکہ کے سابق جنرل جوزف فوٹیل جو امریکی سینٹرل کمانڈ اور اسپیشل آپریشنز کمانڈ کے سابق کمانڈر ہیں، نے کہا:یہ کوئی فوری کارروائی نہیں ہو گی جس میں بس داخل ہوں اور فوراً نکل آئیں۔
دوسری جانب اگر ایران یورینیم کی خود حوالگی پر رضامند ہو جائے اور اسے امن معاہدے کے ایک حصے کے طور پر دے دے، تو امریکی فورسز کو اس خطرناک آپریشن سے بچا جا سکتا ہے۔
امریکہ کا اب تک کا تجربہ
امریکہ نے اب تک جنگ کر کے کسی ملک سے تابکار مواد نہیں چھینا۔ سوویت یونین ٹوٹنے کے بعد سوویت یونین کی قازق ریپبلک الگ ہو کر قازقستان بن گئی تو قازقستان کے پاس بھی سوویت یونین کے نیوکلئیر مواد کا کچھ حصہ موجود تھا لیکن قازقستان خود نیوکلئیر پاور بننے کا بوجھ نہیں اٹھانا چاہتا تھا۔ تب قازقستان کی حکومت نے نئیکلئیر چیپٹر کو ہمیشہ کے لئے بند کرنے کی غرض سے امریکہ کے ساتھ معاہدہ کیا تھا جس کے تحت امریکہ نے محفوظ اور پرامن طریقے سے اپنے ماہرین بھیج کر قازقستان کی لیبارٹریوں مین موجود یورینیم حاصل کیا تھا۔ یہ واقعات 1994 میں ہوئے۔ اس مشن کو پروجیکٹ سفائر (Project Sapphire) کہا گیا۔
1998 میں امریکہ اور برطانیہ نے مل کر سوویت یونین سے الگ ہو کر انڈیپینڈنٹ حیثیت اختیار کرنے والی ریاست جارجیا کے قریب ایک ری ایکٹر سے اعلیٰ افزودہ یورینیم ہٹایا اور اسے سکاٹ لینڈ کے ایک نیوکلئیر کمپلیکس میں منتقل کیا تھا۔ یہ بھی دو فریقوں کی باہمی تضامندی اور مکمل تعاون کے ساتھ کیا جانے والا کام تھا۔
یہ بھی پڑھیئے: امریکا کا ایران میں 2 ہزار پاؤنڈ وزنی بنکر بسٹر بم سے حملہ، ویڈیو بھی شیئر کردی
ایران کے ساتھ امریکہ کے پییچیدہ معاملہ میں میں پاکستان، ترکیہ اور مصر ثالثی کر رہے ہیں تاکہ دونوں جانب سے معاہدہ ممکن ہو سکے۔
صدر ٹرمپ نے زور دیا ہے کہ جنگ بندی کے لئے تہران کو واشنگٹن کی شرائط پورا کرنا لازمی ہے، ورنہ ان کے الفاظ میں، ان کے پاس ملک نہیں بچے گا۔یورینیم کے حوالے سے انہوں نے کہا: وہ ہمیں جوہری دھول (افزودہ یورینیم) دیں گے!