وینزویلا زلزلہ کے بعد بحالی اقدامات

سید عارف نوناری

Aug 31, 2026 | 20:40:PM
وینزویلا زلزلہ کے بعد بحالی اقدامات
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

پوری دنیا کے ممالک میں قدرتی آفات آتی ہیں جن میں سیلاب اور زلرلہ سب سے خطرناک اور نقصان دہ آفات ہیں ان  سے ممالک کی معیشت اور عوام پر براہ راست اثرات پڑتے ہیں قدرتی آفات کی روک وتھام مشکل ہوتی ہے کیونکہ یہ آفات اللہ کی طرف سے ہوتی ہیں ترقی یافتہ ممالک ہوں یا ترقی پذیز ممالک ہوں قدرتی آفات سے بچا نہیں جا سکتا اور نہ یہ پتہ ہوتا ہے کہ یہ کب آنی ہیں البتہ اس کے سد باب کے لیے اقدامات ضرور کیے جا سکتے ہیں۔ وینزویلا میں زلزلہ سے کمیونیکیشن اور ذرائع حمل و نقل شدید متاثر ہوئے اور عوام کی زندگی رک کر رہ گئی لوگ بے گھر ہو گئے سڑکیں متاثر ہوئیں اور معیشت کو کڑوروں ڈالر کا نقصان ہوا  اس کی معیشت کی بحالی ممیں  ابھی وقت لگے گا۔

عالمی ادارے بحالی کے اقدامات میں متحرک ہو گئے  تاکہ جلد نارمل زندگی ممکن ہو سکے بچوں اور بوڑھوں میں ڈر و خوف کی وجہ سے نفسیاتی مسائل بھی پیدا ہو گئے ہیں حکومت کو زلرلہ کے نقصانات اور بحالی میں ابھی وقت لگے گا لیکن زندگی کا نظام درہم برہم ہونے سے حکومت کو شدید مشکلات تھیں اور ابھی بھی ہیں۔یو ایس جیالوجیکل سروے کے مطابق وینزویلا میں زلزلہ سے ایک لاکھ سے زائد اموات ہوئی ، اب تک 50 ہزار سے زائد لاپتہ افراد کی نشاندہی ہوچکی  ہلاکتوں کی تعدادا میں اضافہ ہوتا  رہا  اور یہ تعداد خطرناک حد تک پہنچ چکی  ہزاروں  زخمیوں کی تصدیق ہوچکی ۔

امریکی ادارہ کے مطابق وینزویلا میں آنے والے زلزلوں میں سے ایک سنہ 1900 کے بعد ملک میں آنے والا سب سے طاقتور زلزلہ تھا۔ونیزویلا میں آنے والے پہلے زلزلے کی شدت یو ایس جی ایس کے مطابق 7.2 ریکارڈ کی گئی، جبکہ اس کے ایک منٹ سے بھی کم وقت میں آنے والے دوسرے زلزلے کی شدت 7.5 تھی۔ادارے کے زلزلوں کے ریکارڈ کے مطابق 29 اکتوبر 1900 کو وینزویلا کے ساحل کے قریب 7.7 شدت کا زلزلہ آیا تھا، جسے سان نارسیسو زلزلہ کہا جاتا ہے۔

وینزویلا کی عبوری صدر ڈیلسی روڈریگیز کا کہنا ہے کہ اس وقت ان کی حکومت کی ترجیح ’جانیں بچانا‘ ہے  حکام منہدم عمارتوں کے ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کی کوششوں کے بعد لاشیں نکال لی گئی  ۔جن کی تعداد میں اضافہ کے خدشات میں قائم رہے  امریکہ،ڈومینیکن ریپبلک، میکسیکو اور ایل سلواڈور سمیت دیگر ممالک سے امدادی کارکن پہنچنا شروع ہو ئے اور بحالی کے کام جاری رکھے ہوئے ہیں  پوری دنیا کو اس مشکل وقت میں آگے آ کر وینزویلا کے بحالی کے کاموں میں ان کی بھر پور مدد کرنی چاہیے ریڈکراس بھی متحرک ہو گیا  اور امدادی کاموں اور بحالی میں حصہ مسلسل لیتا رہا انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس نے بھی مالی امداد فراہم کر دی  وینزویلا ایک ایسے خطے میں واقع ہے جہاں زلزلے نسبتاً زیادہ آتے ہیں، کیونکہ یہاں دو ٹیکٹونک پلیٹس، کیریبین پلیٹ اور جنوبی امریکی پلیٹ آپس میں ملتی ہیں۔امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق دو زلزلوں میں سے دوسرا اور زیادہ طاقتور زلزلہ ان پلیٹس کی سرحد کے قریب ’سطحی سٹرائیک سلِپ فالٹنگ‘ کے نتیجے میں آیاتھا وینزویلا میں یکے بعد دیگر زلزلے کے شدید جھٹکوں نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی تھی  امریکی ماہرین نے زلزلے کے نتیجے میں مزید ہلاکتوں کا خدشہ ظاہر کیا ، 22 منزلہ عمارت سمیت متعدد عمارتیں زمین بوس ہوگئیں ان عمارتوں کی تعداد دو سو سے زائد ہے ، خوفزدہ شہری جان بچانے کے لیے گھروں اور عمارتوں سے نکل کر سڑکوں پر آ گئے،تھےفوری طور پر سونامی کی وارننگ جاری کر دی گئی تھی، جبکہ ملک بھر میں ایمرجنسی بھی نافذ کی جا چکی ۔زلزلے کے باعث سکول اور ٹرین سروس معطل کر دی گئیں   بڑے پیمانے پر امدادی سرگرمیاں کا سلسلہ شروع کر دیا گیا اور بحالی کی فعالیت کو تیز کیا گیا تاکہ شہری جلد نارمل کاموں میں حصہ لے سکیں ۔

امریکی ماہرین کے مطابق زلزلے کے باعث وینزویلا میں ہزاروں اموات کا خدشہ درست ثابت ہوا، زلزلے کا مرکز دارالحکومت کراکس سے 284 کلومیٹر مشرق میں تھا۔وینزویلا کے مرکزی بین الاقوامی ہوائی اڈے مائیکیتیا کو زلزلے سے ہونے والے ’شدید نقصان‘ کے باعث بند کر دیا گیا ۔ زلزلے کے نتیجے میں ایئرپورٹ کے ترمینل کو شدید نقصان پہنچا  جس کے بعد اسے بند کر دیا گیا ۔امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق امریکی ریاست کیلیفورنیا اور خطے کے دیگر ممالک میں بھی زلزلے کی شدت 5.6 ریکارڈ ہوئی، کیلیفورنیا کے شمالی علاقوں میں 10 لاکھ افراد کو الرٹ جاری کر دیا گیا ۔دوسری جانب شمالی جاپان میں 6.9 شدت کا زلزلہ آیا جس کے جھٹکے ٹوکیو میں بھی محسوس کئے گئےتھے جاپان کی موسمیاتی ایجنسی کے مطابق زلزلے کا مرکز ایواتی کا ساحلی علاقہ تھا، گہرائی 50 کلومیٹر تھی، جس علاقے میں زلزلہ آیا وہ سب سے زیادہ خطرے کا زون تھا۔جاپانی وزیر دفاع نے فوج کو زلزلہ زدہ علاقوں میں فضائی انٹیلی جنس جائزہ لے کر رپورٹ تیار کرنے ہدایت کی پاکستان کے عوام اور حکومت وینزویلا کے عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا ان کے غم میں برابر کے شریک رہے۔  وینزویلا کے عوام اس سانحے کا بہادری اور عزم کے ساتھ مقابلہ کر رہے ہیں  اور امدادی و ریسکیو سرگرمیاں ضرورت مند افراد تک بروقت مدد پہنچانے میں کامیابی سے جاری ہیں ۔زلرلہ کے بعد متاثرہ خاندان ابھی بھی مشکلات میں مبتلا ہیں  وینزویلا کے متاثرین زلرلہ کے ساتھ پاکستان کی  حکومت، عوام اور متاثرین  مشکل وقت میں متاثرہ افراد کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے رہے اور امداد بھی جاری رکھے ہوئے ہیں ۔وینزویلا کو انتہائی مشکلات کا سامنا ہے ریسکیو کی امدادی ٹیموں کو بحالی کے کاموں میں رکاٹوں کا سامنا رہا جسے دور کر دیا گیا  متاثرہ خاندان کی نشاندھی کا عمل بھی جاری ہے سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وینزویلا کے عوام مدد کے لیے کسی کو نہیں پکار رہے ہیں امریکہ نے امدادی کاروائیوں میں مدد دینے کے لیے عمل درآمد شروع کر دیا اور امدادی کارووائیاں جاری ہیں  کمیونیکیشن کا نظام بھی متاثر ہوا ہے بحالی کے کاموں میں اور زندگی نارمل لانے میں عرصہ لگے گا لیکن عالمی سطح پر ممالک بہت سے ممالک اور بین الاقوامی ادارے بحالی کر رہے ہیں تعمیراتی ڈھانچے تباہ ہوئے لیکن آہستہ آہستہ زندگی نارملٹی کی طرف گامزن ہیں صاف ظاہر ہے بحالی کے کاموں میں طویل وقت درکار ہوتا ہے آزاد کشمیر میں 2005  کے زلرلہ کی ابھی تک مکمل بحالی نہیں ہوئی۔

  یونیسیکو نے متاثرین بچوں کی امداد کی اپیل کر دی ، خاندانی روابط کے لیے ریڈ کراس نے "بحالی خاندانی روابط" کو بھی متحرک کر دیا،  قدرتی آفات قدرت کی طرف سے امتحان ہوتا ہے لیکن بحالی کے لیے عرصہ درکار ہوتا ہے، خوارک متاثرین کو مہیا کی جا رہی ہے اور میڈیکل کی بھی سہولیات بین الاقوامی ادارے مہیا کر رہے ہیں، قوم کو اس قدرتی آفت میں حوصلہ اور ہمت سے کام لینا ہو گا بحالی اقدامات ابھی مکمل نہیں ہوئے ابھی وقت لگے گا، متاثرین تعمیراتی کاموں میں بھی مصروف ہیں تاکہ اپنے گھروں کو واپس لوٹ سکیں۔

دیگر کیٹیگریز: بلاگ
ٹیگز: