آزادکشمیر: دوسرے روز بھی مکمل شٹر ڈاؤن ،انٹرنیٹ سروسز بند ، شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا

Sep 30, 2025 | 22:03:PM
آزادکشمیر: دوسرے روز بھی مکمل شٹر ڈاؤن ،انٹرنیٹ سروسز بند ، شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا
کیپشن: فائل فوٹو
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(زاہد بشیر چودھری)آزادکشمیر دوسرے روز بھی مکمل شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال جاری،جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی کال پر احتجاجی دھرنے آزادکشمیر کے تمام شہروں میں جاری ہیں،آزاد کشمیر میں انٹرنیٹ سروسز مسلسل دوسرے روز بھی بند۔
تفصیلات کے مطابق  آزادکشمیر  میں دوسرے روز بھی عوامی ایکشن کمیٹی کے کارکنوں کی بڑی تعداد سڑکوں پر موجود ہے،شہر بھری کی تمام مارکیٹیں، دوکانیں اور کاروباری مراکز مکمل طور پر بند،پبلک ٹرانسپورٹ معطل،سڑکیں ویران،آزادکشمیر کے تمام شہروں انٹرنیٹ کی تمام سروسز دوسرے روز بھی مکمل بند،جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا مظفر آباد کی جانب مارچ کا اعلان،مطالبات کی منظوری تک آزادکشمیر بھر میں شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام جاری رکھنے کا فیصلہ،باغ سے چلنے والا قافلہ مظفر آباد کی جانب پیشقدمی کرتے ہوئے کوہالہ کے مقام پر پہنچ گیا،کوہالہ کے مقام پر کھڑی رکاوٹوں کو مظاہرین نے ہٹا دیا، مظاہرین نے راستے میں کھڑے کنٹینرز کو دریائے نیلم میں پھینک دیا،

سڑک پر موجود دیگر رکاوٹیں بھی مظاہرین نے خود ہٹا کر راستہ کلئیر کر دیا،مارچ میں شریک عوامی کارکنان حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کرتے رہے، کوہالہ پل کے اطراف میں سیکیورٹی اداروں کی بھاری نفری تعینات ہے۔مظاہرین کا کہنا ہے کہ حکومت عوامی مسائل کے حل میں سنجیدہ نہیں۔عوامی ایکشن کمیٹی  کا کہنا ہے کہ مطالبات پورے ہونے تک احتجاج جاری رہے گا۔مظاہرین کی مظفر آباد پہنچنے کے بعد دھرنے کی کال دینے کا امکان،کشیدہ صورتحال کے باعث مظفر آباد اور گرد و نواح میں غیر یقینی کی فضا۔

آزاد کشمیر میں انٹرنیٹ سروسز مسلسل دوسرے روز بھی بند ہے،انٹرنیٹ بندش کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے،دو دن گزر گئے، شہری بیرونِ ملک اپنے پیاروں سے رابطہ نہ کر سکے،انٹرنیٹ کی تلاش میں نوجوان سڑکوں اور چوراہوں پر موبائل اٹھائے گھومنے لگے،آن لائن کاروبار، تعلیمی سرگرمیاں اور بینکنگ سسٹم مفلوج، طلبہ آن لائن کلاسز اور اسائنمنٹس جمع نہ کرا سکے،شہریوں نے دہائی دی ہےکہ جلد از جلد انٹرنیٹ بحال کیا جائے۔حکومت آزادکشمیر کی جانب سے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی کال پر جاری احتجاج سے ایک روز قبل موبائل سروسز بند کر دی گئی تھیں جس سے شہریوں میں تشویش پائی جا رہی ہے تارکین وطن کے شہر میرپور سے تعلق رکھنے والے افراد کی بڑی تعدا شہر سے باہر منگلا دینہ مین شاہراؤں پر کھڑے ہو موبائل فون سگنلز کی تلاش میں مصروف دکھائی دے رہے ہیں شہریوں کا کہنا ہے کہ حکومت نے موبائل سروسز بند کر کے شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:راولپنڈی،پولیس پارٹی پر فائرنگ، 15 سالہ لڑکے کو زیادتی کے بعد قتل کرنیوالا ملزم مارا گیا