بھارت میں جعلی سائنسدان گرفتار، ایٹمی معلومات سمیت 14 نقشے برآمد
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24 نیوز)ممبئی پولیس نے مبینہ طور پر اہم ترین ایٹمی تحقیقی ادارے بھابھا اٹامک ریسرچ سینٹر (BARC) سے وابستگی ظاہر کرنیوالے جعلی سائنسدان کو گرفتار کر کے اس کے قبضے سے ایٹمی ڈیٹا اور 14 نقشے برآمد کر لیے ہیں۔
پولیس کی تحقیقات کے مطابق ان دستاویزات میں خفیہ یا حساس نوعیت کی معلومات موجود ہو سکتی ہیں جنہیں ماہرین اس وقت جانچ رہے ہیں۔
پولیس کے مطابق ملزم کا نام اختر قطب الدین حسینی ہے، جو ورسووا سے گزشتہ ہفتے گرفتار کیا گیا، وہ مختلف جعلی شناختوں کے تحت خود کو سائنسدان ظاہر کر رہا تھا۔
پولیس نے اس کے قبضے سے جعلی پاسپورٹ، آدھار کارڈ، پین کارڈ اور بی اے آر سی کے جعلی شناختی کارڈ بھی برآمد کیے۔
ایک شناختی کارڈ پر اس کا نام علی رضا حسین درج تھا، جب کہ دوسرے پر الیگزینڈر پالمر۔
تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ ملزم نے گزشتہ چند ماہ کے دوران متعدد بین الاقوامی کالز کیں۔
پولیس کے مطابق اس کے کال ریکارڈز کا جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ کہیں وہ کسی غیر ملکی نیٹ ورک سے تو رابطے میں نہیں تھا۔
ذرائع کے مطابق اس کے پاس سے برآمد ڈیٹا میں ایٹمی تنصیبات یا ریسرچ سے متعلق حساس معلومات شامل ہونے کا خدشہ ہے۔
تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ اختر حسینی 2004 میں دبئی سے ڈی پورٹ کیا گیا تھا، جہاں اس نے خود کو ’سائنسدان‘ ظاہر کر کے خفیہ دستاویزات رکھنے کا دعویٰ کیا تھا۔
ڈی پورٹ کیے جانے کے باوجود وہ جعلی پاسپورٹس کے ذریعے دوبارہ دبئی، تہران اور دیگر ممالک کے سفر کرتا رہا۔
ذرائع کے مطابق اختر حسینی کا تعلق جمشید پور (جھاڑکھنڈ) سے ہے، اس نے 1996 میں اپنا آبائی مکان فروخت کر دیا تھا لیکن اسی پرانے پتے کو استعمال کرتے ہوئے نئی جعلی دستاویزات حاصل کرتا رہا۔
پولیس کے مطابق اختر کے بھائی عادل حسینی نے اسے منزل خان نامی شخص سے ملوایا، جس نے ان دونوں کے لیے 2 جعلی پاسپورٹ بنوائے۔
ایک حسینی محمد عادل کے نام سے اور دوسرا نسیم الدین سید عادل حسینی کے نام سے۔
تحقیقات سے پتا چلا ہے کہ منزل خان کا بھائی الیاس خان بھی اس نیٹ ورک میں شامل ہے۔
جو اختر حسینی کو جعلی تعلیمی اسناد فراہم کرتا رہا، جن میں سکول اور کالج کی ڈگریاں بھی شامل تھیں، الیاس خان کو پولیس نے اشتہاری قرار دے دیا ہے۔
اختر حسینی کے خلاف میرٹھ پولیس میں بھی ایک مقدمہ درج ہے، جس میں اسے یوپی حکومت کے خلاف نفرت اور اشتعال پھیلانے کا ملزم قرار دیا گیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزم نے تفتیش کے دوران غلط بیانی کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ اس کا بھائی کئی سال پہلے فوت ہو چکا ہے، تاہم تحقیقات میں یہ بات غلط ثابت ہوئی۔
ممبئی پولیس نے تمام برآمد شدہ دستاویزات اور ڈیٹا کو سیکیورٹی ایجنسیوں اور ایٹمی ماہرین کے حوالے کر دیا ہے تاکہ ان میں کسی سیکیورٹی خطرے یا راز افشا ہونے کے امکان کی جانچ کی جا سکے۔
ذرائع کے مطابق معاملے کو قومی سلامتی کے دائرے میں لے جانے کا امکان بھی موجود ہے۔