مصر؛ 22 سالہ نوجوان نے 13 طالبات کو ڈوبنے سے بچاتے ہوئے اپنی جان دے دی
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک ) مصر میں ایک نوجوان کی بہادری اور ایثار نے پوری قوم کو غمزدہ بھی کر دیا اور اس کے لیے احترام کی ایک نئی مثال بھی قائم کر دی،22 سالہ حسن احمد الجزار نے 13 طالبات کو ڈوبنے سے بچاتے ہوئے اپنی جان دے دی۔
حسن احمد الجزار صوبہ منوفیہ کے گاؤں منیل دویب سے تعلق رکھتا تھا،اُس وقت جان کی بازی ہار گیا جب اُس نے دریائے سینا میں الٹنے والی منی بس سے 13 طالبات کو بچانے کے بعد تھکن کے باعث ڈوب کر دم توڑ دیا۔
مقامی میڈیا کے مطابق یونیورسٹی کی طالبات کو لے جانے والی منی بس کا ٹائر اچانک پھٹ گیا،گاڑی بے قابو ہوئی اور سڑک سے پھسل کر دریا میں جا گری،حسن موقع پر موجود تھا اور اس نے فوراً پانی میں کود پڑاحالانکہ وہ تیرنا جانتا بھی نہیں تھا۔
اس نے ڈوبتی ہوئی منی بس کا پچھلا دروازہ زبردستی کھولا اور ایک ایک کر کے تمام 13 طالبات کو باہر نکالنے میں کامیاب ہوا۔
بہادری اور ایثار کی آخری سانس
تمام طالبات کو بچانے کے بعد حسن شدید جسمانی تھکن کے باعث خود پانی میں ڈوب گیا،یہ وہ آخری لمحے تھے جنہوں نے اسے ملک کا ہیرو بنا دیا،حسن روزگار کی تلاش میں سینائی آیا تھا اور اپنے پیچھے تین کم عمر بیٹیاں اور ایک بے سہارا بیوہ چھوڑ گیا ہے۔
حسن کے والد نے روتے ہوئے کہا میرا بیٹا ہیرو تھا،اس نے اپنی جان کی پروا کیے بغیر 13 بچیوں کی زندگیاں بچا لیں،میں اس پر فخر کرتا ہوں۔
انہوں نے بتایا کہ حادثہ حسن کی سالگرہ سے صرف دو دن قبل پیش آیا،وہ بیٹے کے لیے کیک لے کر ملنے آ رہے تھے کہ انہیں موت کی خبر مل گئی۔
حسن کے والد نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ کم از کم اس کی بچیوں کی کفالت کی جائے،اس نے تو دوسروں کے گھروں کو ہمیشہ کے لیے ماتم سے بچا لیا۔
قوم کی اپیل قومی اعزاز اور شہادت کا درجہ دیا جائے
سوشل میڈیا پر ہزاروں صارفین نے حسن کے لیے قومی اعزاز، قومی شہید کا درجہ اور اس کے خاندان کی مالی مدد کا مطالبہ کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : ’’ہماری محبت جیت گئی‘‘ لڑکی نے غیرت کے نام پر قتل اپنےمحبوب کی لاش سےشادی کرلی