مخالفت بھی، موسیقی کی چوری بھی — بالی ووڈ کا دوہرا معیار

تحریر: زین مدنی حسینی 

Nov 30, 2025 | 17:48:PM
مخالفت بھی، موسیقی کی چوری بھی — بالی ووڈ کا دوہرا معیار
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

فن سرحدوں کا پابند نہیں ہوتا۔۔مگر بدقسمتی سے بالی ووڈ اس اصول پر صرف تب یقین کرتا ہے جب بات پاکستانی موسیقی کی چوری کی ہو۔ ایک طرف پاکستان کے فنکاروں پر سخت پابندیاں اور دوسری طرف پاکستانی گانوں کی دھنیں خاموشی سے اٹھا کر فلموں میں شامل کر لینا۔یہ رویہ نئی بات نہیں بلکہ برسوں پرانا چلن ہے۔
تازہ ترین مثال وہ ہٹ گانا ہے جس نے پاکستان میں مقبولیت کے نئے ریکارڈ قائم کئے۔
"بول کفارہ" جسے سحر گل خان اور شہباز فیاض قوال نے گایا، اور جس کے شاعر و کمپوزر عاصم رضا ہیں۔یہ گانا پاکستانی ڈرامے کا او ایس ٹی یعنی ڈرامے کے ٹائٹل سونگ کاتھا اور ناظرین کے دلوں میں گھر کرگیا۔لیکن حیرت انگیز طور پر یہی گانا تقریباً اسی دھن، اسی کمپوزیشن اور اسی میوزیکل فیل کے ساتھ بھارتی فلم “اک دیوانے کی دیوانیت” میں شامل کر لیا گیا۔
نہ اجازت، نہ کریڈٹ، نہ شکریہ۔۔بس دھن اٹھائی، گانا فلم میں ڈال دیا اور نیا رنگ چڑھا کر اسے “بالی ووڈ پروڈکٹ” بنا دیا۔
یہ پہلی بار نہیں ہوا…
پاکستانی موسیقی کا استحصال بالی ووڈ میں کوئی نیا عمل نہیں۔مثالیں بے شمار ہیں۔
نصرت فتح علی خان کے قوالیوں اور راگوں کی درجنوں فلموں میں نقل۔۔۔۔۔۔ عاطف اسلم کی آواز پر پابندی، مگر اسی طرز کے کمپوزیشن اب بھی بھارتی گانوں میں جھلکتے ہیں۔
"ہلکا ہلکا سرور" سے لے کر "کدی تے ہنس بول" تک کئی پاکستانی گانے بالی ووڈ نے اپنے نام کیے۔کوک سٹوڈیو پاکستان کے گانوں کی دھنیں کئی بھارتی فلموں میں تبدیل شکل کے ساتھ دوبارہ استعمال ہوئیں۔
جب بھی بھارتی فلمی میوزک تخلیقی بحران کا شکار ہوتا ہے، وہ پاکستان کا دروازہ دبے پاؤں کھٹکھٹاتا ہے۔
اصل مسئلہ نقل نہیں۔دوغلا پن ہے
بھارتی فلم انڈسٹری کی پالیسی عجیب ہےپاکستانی گلوکاروں، اداکاروں اور ٹیکنیشنز پر سخت پابندیاں پاکستان سے وابستہ کسی بھی نام کو فلموں سے خارج کرنے کا دباؤمیڈیا میں پاکستان مخالف بیانیے کا فروغ
مگر دوسری جانب
۔ پاکستانی گانے فلموں میں شامل
۔ پاکستانی دھنیں کاپی۔ پاکستانی موسیقی سے فلمی البمز کی جان بچائی جاتی ہےیہ وہی دوہرا معیار ہے جس نے بالی ووڈ کے اخلاقی قد کو ہمیشہ سوالیہ بنایا ہے۔
پاکستانی موسیقی کیوں متاثر کن ہے؟
کیونکہ پاکستان میں
دھنیں روح سے جنم لیتی ہیں۔کمپوزیشن روایت اور فن سے بنتی ہے
سُر، راگ اور الفاظ میں اصل مشرقی جمالیات ہوتی ہیں۔موسیقی تجربے، فن اور محبت سے بنتی ہے، مشینوں سے نہیں۔
اسی لیے بالی ووڈ آج بھی پاکستانی سُروں پر انحصار کیے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتا۔
اب کیا کرنے کی ضرورت ہے؟پاکستانی موسیقاروں کو عالمی سطح پر کاپی رائٹ پروٹیکشن مزید مضبوط کرنی چاہیے۔پاکستانی میڈیا کو نقل ہونے والے ہر گانے پر باقاعدہ آواز اٹھانا چاہیے۔سرکاری سطح پر ایک موسیقی حقوق کونسل قائم ہو جو بین الاقوامی سطح پر پاکستانی فنکاروں کے حقوق کی حفاظت کرے۔اور سب سے بڑھ کر پاکستان کو اپنی موسیقی کو عالمی منڈی میں خود پیش کرنا چاہیے، تاکہ دوسروں کو اسے چرانے کا موقع نہ ملے۔
"بول کفارہ" کی نقل نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ بالی ووڈ کو پاکستان کی موسیقی سے نفرت نہیں۔بلکہ ضرورت ہے۔
فرق صرف اتنا ہے کہ وہ یہ ضرورت ماننے کو تیار نہیں۔مخالفت زور و شور سے کرتے ہیں،
مگر پاکستانی دھنیں فلموں میں ڈال کر کروڑوں بھی کماتے ہیں۔اصل فنکار ہمیشہ پاکستان میں تھا، ہے اور رہے گا۔اور نقل کرنے والے ہمیشہ پردوں کے پیچھے ہی رہیں گے۔

دیگر کیٹیگریز: بلاگ
ٹیگز: