آزاد کشمیر میں مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر غور کرنے کےلئے کمیٹی تشکیل پاگئی
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24 نیوز) حکومتِ پاکستان نے آزاد کشمیر میں مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر غور کرنے کےلئے کمیٹی تشکیل دے دی۔
چھ ارکان پر مشتمل کمیٹی میں وفاقی حکومت، آزاد کشمیر حکومت اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے نمائندے کمیٹی میں شامل ہیں۔
وزیر قانون آزاد کشمیر عبد الوحید کمیٹی کے سربراہ ہیں۔ یہ کمیٹی کشمیری مہاجروں کی آزاد کشمیر اسمبلی میں نشستوں کے معاملہ پر وزارت امور کشمیر کو معاونت فراہم کرے گی۔
کمیٹی اپنی سفارشات مانیٹرنگ اینڈ امپلی منٹیشن کمیٹی کو پیش کرے گی۔
کمیٹی میں وزیر قانون آزاد کشمیر عبدالواحد ،طاہر انصار ایڈووکیٹ، ،راجہ ایاز خان ایڈووکیٹ ،حشیش الرحمان،حسن محمود تیمور زرین ، جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے راجہ امجد ایڈووکیٹ ،ارباب ایڈووکیٹ اور سعد انصاری ایڈووکیٹ شامل ہیں۔
حکومتِ پاکستان نے آزاد کشمیر میں مہاجرین کی نشستوں کے حوالے سے چھ رکنی کمیٹی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے گزشتہ پرتشدد احتجاج کو ختم کروانے کے لئے مانے گئے مطالبات کے ضمن میں قائم کی ہے۔
وفاقی حکومت، آزاد کشمیر حکومت اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے نمائندے کمیٹی میں بیٹھ کر آزاد کشمیر اسمبلی میں جموں کے مہاجروں کی نشستوں کے مستقبل پر اپنی رائے طے کریں گے۔ یہ رائے پھر آزاد کشمیر حکومت اور وفاقی حکومت کے زیر غور آئے گی۔
جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا اپنے پر تشدد احتجاج کے دوران یہ بھی مطالبہ تھا کہ جموں کے مہاجروں کی نشستیں آزاد کشمیر اسمبلی میں ختم کی جائیں۔ 1948 میں اور اس کے بعد جموں سے گھر بار چھوڑ کر آنے والے لاکھوں مہاجرین آزاد کشمیر کے ساتھ پنجاب کے کئی شہروں میں بھی مقیم ہیں۔ پنجاب میں ان مہاجروں کو دوہرا سٹیٹس حاصل ہے، وہ کشمیری شہری بھی تصور ہوتے ہیں اور ان کو پانکستان کی پارلیمنٹ اور مقامی جمہوری اداروں میں بھی ووٹ کا حق حاصل ہے۔ آزاد کشمیر اسمبلی میں جموں کے مہاجروں کی نشستوں کے لئے باقی نشستوں کے ساتھ الیکشن ہوتا ہے، انتخابی مہم میں کشمیری سیاسی جماعتیں سرگرم حصہ لیتی ہیں اور ووٹنگ میں جموں کے مہاجر بھاری تعداد میں ووٹ کا حق استعمال کرتے ہیں۔