علیمہ خان کے بیان کی پارٹی میں کسی نے ابھی تک مخالفت نہیں کی؛ قمر الاسلام راجہ
Stay tuned with 24 News HD Android App
پاکستان مسلم لیگ ن کےرہنما قمر الاسلام راجہ نے کہا ہے کہ کہ مذاکرات ہونے چاہیے لیکن تحریک انصاف کی طرف سے متضاد بیانات آرہے ہیں جبکہ علیمہ خان کے بیان کی پارٹی میں کسی نے ابھی تک مخالفت نہیں کی ہے۔
پروگرام گونج مسعود رضا کے ساتھ میں گفتگو کرتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ ن کے اہم رہنما قمر الاسلام راجہ نے کہا کہ پنجاب اسمبلی میں تحریک انصاف کے وہ لوگ زبردستی گھسےجن کے نام لسٹ میں نہیں تھے،اس لیے ان کو روکا گیا جس پر انہوں نے دھکم پیل کی اور بدزبانی کی۔
ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی جب پنجاب کے دورے پر آئے تو ان کے ساتھ بہت کم لوگ تھے جس پر عظمی ٰ بخاری نے ایکس پر پوسٹ کی کہ نعروں کا جواب دینے کے لیے بھی لوگ موجود نہیں ہیں۔
رہنما قمر الاسلام راجہ نے مزید کہا کہ کوئی بھی سیاسی سوچ رکھنے والا مذاکرات کا حامی ہوگا اس لیے وہ مذاکرات کے حق میں ہیں لیکن تحریک انصاف کی طرف سے متضاد بیانات آرہے ہیں جبکہ علیمہ خان کے بیان کی جس میں انہوں نے کہا تھا کہ جو مذاکرات کرے گا ،اس کا تحریک انصاف سے کوئی تعلق نہیں ہے،پارٹی میں کسی نے ابھی تک اس بیان کی مخالفت نہیں کی ہے۔
کوٹ لکھپت میں قید تحریک انصاف کی قیادت اگر مذاکرات کے حق میں ہے تو بھی وہ کچھ نہیں کر سکتی کیونکہ اگر کسی قیدی کی ضمانت بھی ہوئی تو ان کی سوشل میڈیا گالم گلوچ بریگیڈ نے ایسی ٹرولنگ کرنی ہے کہ اللہ معاف کرے ، انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی معیشت بہتر ہوئی ہے لیکن اتنی نہیں ہوئی کے عوام تک اس کے ثمرات پہنچے ہوں، اس کے لیے ابھی ٹائم درکار ہے لیکن پاکستان کے حالات اتنے بھی خراب نہیں ہوئے کہ کوئی بارڈر پر جا کر چیخ چیخ کر مودی سے مدد مانگے چلا جائے۔
پروگرام میں شریک پاکستان تحریک انصاف کے رہنما فیصل چوہدری نے کہا کہ سہیل آفریدی کے دورے سے پنجاب حکومت گھبرا گئی ہے، پنجاب حکومت کے ترجمانوں نے سہیل آفریدی پر جھوٹے الزامات لگائے،یہاں تک کے ان پر منشیات کے الزامات بھی لگائے گئےاگر تحریک انصاف کے کچھ لوگ سہیل آفریدی کے ساتھ اسمبلی میں آنا چاہتے تھے تو کون سی قیامت آگئی تھی، حمزہ شہباز کے دور میں بھی پولیس پنجاب اسمبلی میں گھس گئی تھی ۔
فیصل چوہدری نے تحریک انصاف اور حکومت کے مابین مذاکرات کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی جماعتوں کے پاس واحد ہتھیار مذاکرات کا ہوتا ہے ،ہماری جماعت کے لوگ متضاد بیانات دے رہے ہیں لیکن پھر بھی مذاکرات ہونے چاہیے، کوٹ لکھپت میں قید تحریک انصاف کی سینیئر قیادت مذاکرات میں کردار ادا کر سکتی ہے لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ بانی تحریک انصاف کے بغیر مذاکرات نہیں ہوسکتے۔
فیصل چوہدری نے مزید کہا کہ اس وقت ملک بہت سارے بحرانوں سے گزر رہا ہے جس میں معاشی اور سیاسی بحران شامل ہیں اس لیے حکومت کو مزید کام کرنا ہوگا کیونکہ جب تک عام آدمی کو فائدہ نہیں ہوتا حکومت کے بہتری کے دعوے بیکار ہیں ،ان کا کہنا تھا کہ نہ تحریک انصاف کو حکومت ختم کر پارہی ہے نا ہی تحریک انصاف حکومت کے خلاف کوئی احتجاج موثر طریقے سے انجام دے پا رہی ہے تو پھر بیچ کا راستہ اختیار کرنا چاہیے جو مذاکرات کا راستہ ہے ۔
پروگرام میں شریک پاکستان پیپلزپارٹی کی رہنما شہلا رضا نے کہا کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے گڑھی خدا بخش کے جلسے میں سیاسی بصیرت کے مظاہرے کی بات کی ہے،صدرزرداری کو سزا کے طور پر جیل میں رکھا جاتا تھا ،سزا آج تک نہیں ہوئی، محمود مولوی اور فواد چوہدری نے کہا کہ ایک ٹوئٹ کے بعد مذاکرات کے لیے کی گئی ہماری ساری محنت ریت میں مل گئی ۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ تحریک انصاف میں سے سنجیدہ لوگوں کو آگے آنا چاہیے،شہلا رضا نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے دورہ پنجاب پر بات کرتے ہوئے کہا کہ دونوں جانب سے غیر پارلیمانی زبان کا استعمال کیا گیا،کوئی صوبائی حکومت کسی پارٹی کو سیاسی سرگرمیوں سے نہیں روک سکتی۔
یہ بھی پڑھیں: ممتاز عالم دین مفتی مختارالدین شاہ انتقال کرگئے