چناب اور راوی کے ریلے مزید پریشانی کا باعث بن سکتے ہیں، ڈی جی پی ڈی ایم اے نے خبردار کردیا

بھارت کی جانب سے درست معلومات شیئر نہیں کی گئیں، سیلاب کے باعث 30 اموات ہوچکیں 

Aug 30, 2025 | 12:23:PM
چناب اور راوی کے ریلے مزید پریشانی کا باعث بن سکتے ہیں، ڈی جی پی ڈی ایم اے نے خبردار کردیا
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24نیوز)ڈائریکٹر جنرل پروونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) پنجاب عرفان علی کاٹھیا نے خبردار کیا ہے کہ پنجاب کے تینوں دریاؤں پر پانی کا بہاؤ بہت تیز ہے، چناب اور راوی کا ریلا مزید پریشان کر سکتا ہے۔
لاہور میں سیلاب کی تازہ ترین صورت حال سے آگاہ کرتے ہوئے عرفان علی کاٹھیا نے بتایا کہ ہیڈ مرالہ پر ایک لاکھ 75 ہزار کیوسک پانی ریکارڈ کیا گیا جبکہ تریموں ہیڈ ورکس پر پانی کا بہاؤ بڑھ رہا ہے، تریموں کے مقام پر کل صبح تقریباً 8 لاکھ 30 ہزار کیوسک پانی گزرنے کا امکان ہے۔
عرفان علی کاٹھیا نے بتایا کہ تریموں سے پانی ہیڈ محمد والا پر پہنچے گا جو کبیر والا کے مقام سے ہوتا ہوا چناب میں مل جائےگا، دریائے راوی میں بلوکی کے مقام پر 2 لاکھ کیوسک کا ریلا پہنچ چکا ہے، بلوکی میں پانی کا بہاؤ 2 لاکھ 20 ہزار کیوسک پر پہنچ کر کم ہونےکا امکان ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ہیڈ محمد والا پر ریلا تقریباً ساڑھے7 سے 8 لاکھ کیوسک تک پہنچنےکا امکان ہے، شاید ہمیں ہیڈ محمد والا پر شگاف ڈالنے کی نوبت آئے، ہیڈ محمد والا سے پانی شیرشاہ برج تک جائےگا، شیر شاہ پل کی صورتحال کا جائزہ لیا جا رہا ہے، علی پور کے مقام پر ہیڈ پنجند پر 8 لاکھ کا ریلا چار ستمبر کو پہنچےگا، مظفر گڑھ کے مقام پر4 ستمبر کو تقریباً 9 لاکھ کیوسک کا بڑا ریلا پہنچنے کا امکان ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سیلاب سے ہرطرف تباہی ،ستلج میں گنڈاسنگھ والا کےمقام پر انتہائی اونچےدرجے کا سیلاب
ڈی جی پی ڈی ایم اے نے بتایا کہ پنجاب میں ریسکیو اور ریلیف آپریشن جاری ہے، پنجاب کی تاریخ کا سب سے بڑا آپریشن ریسکیو 1122 نے کیا، پاکستان آرمی نے بھی پنجاب کے لوگوں کو ریسکیو کرنے میں مثالی مدد کی،ریسکیو کے عمل میں کوئی تاخیر نہیں، ہر قسم کا ریسکیو آپریشن جاری ہے، جن علاقوں سے ریلا گزر رہاہے وہاں ریسکیو کے عمل کو یقینی بنایا جا رہا ہے، دریائے ستلج سے ملحقہ 22 گاوں کو خالی کرالیا گیا ہے۔
عرفان علی کاٹھیا نے بتایا کہ چناب اور راوی کا ریلا مزید پریشانی کا سبب ہوسکتا ہے، سیلابی ریلا ہیڈ سلیمانکی کی طرف بڑھ رہا ہے، ہیڈ ورکس، پل اور بیراجوں کو بچانے کے لیے بروقت فیصلے لیے گئے۔

 عرفان علی کاٹھیا نے کہا کہ بھارت کی طرف سے بند ٹوٹنے سے ہمارے دفاعی بند پر دباؤ بڑھ گیا، گنڈا سنگھ پر 3 لاکھ 30 ہزار کیوسک پانی کا بہاؤ چل رہا ہے، بھارت کی جانب سے درست  معلومات شیئر نہیں کی گئیں،بھارت کا مادھوپور ہیڈورکس ٹوٹنے کے باعث مزید پانی آئے گا، جب تک پانی کی سطح کم نہیں ہوتی زیر آب مقامات پر پانی کم نہیں ہوگا، اب تک سیلاب کے باعث 30 اموات ہوچکی ہیں۔