نیتن یاہو وزارت عظمیٰ سے نکل کر جیل جائیں گے، امریکی تحقیقاتی صحافی کی فورکاسٹ
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک) اسرائیل کے سبسے طویل عرصہ سے وزارت عظمیٰ سے چمٹے ہوئے وزیراعظم نیتن یاہو کے وزارت عظمیٰ سے نکل کر جیل جانے کی نئی فورکاسٹ امریکہ سے آئی ہے۔
پہلے یہ بات صرف اسرائیل کے ڈیموکریٹ اور بائیں بازو کے ووٹر کہتے تھے، اب امریکہ کے تحقیقاتی صحافی نے نئے شواہد سامنے لا کر کہہ دیا کہ وزارت عظمیٰ سے نکل کر بنجمن نیتن یاہو جیل جانے والے ہیں۔ نیتن یاہو پر کرپشن کے الزامات میں تین مقدمے کئی سال سے زیر سماعت ہین لیکن اب الزامات ایک بار پھر شدت اختیار کر گئے ہیں جب کہ ایک نئی تحقیقاتی رپورٹ اور مبینہ ویڈیوز سامنے آنے کے بعد ان کی سیاسی اور قانونی مشکلات میں اضافہ ہو گیا ہے۔
امریکی صحافی ٹکر کارلسن نے ایک دستاویزی مواد اور ویڈیو سامنے لانے کا دعویٰ کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ یہ شواہد نیتن یاہو کے خلاف تل ابیب کی عدالت میں رک رک کر چل رہی قانونی کارروائی کو مضبوط بنا سکتے ہیں اور نیتن یاہو کو یقینی طور پر جیل تک لے جا سکتے ہیں۔
اس تحقیقاتی رپورٹ میں تصدیق کی گئی ہے کہ نیتن یاہو نے اسلحہ کے تاجروں سے قیمتی تحائف حاصل کئے اور اس کے بدلے انہیں کاروباری فائدے پہنچائے۔ مزید یہ بھی بتایا گیا ہے کہ پولیس کی تحقیقات کے دوران نیتن یاہو نے اپنے اور اپنی اہلیہ کے نام پر تحائف لینے کا اعتراف کیا۔
رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ ایک ویڈیو بھی سامنے آئی ہے جس میں نیتن یاہو کو انکوائری افسروں کو دھمکاتے ہوئے دکھایا گیا ہے تاہم اس ویڈیو کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔
مبصرین کے مطابق اگر یہ الزامات ثابت ہو جاتے ہیں تو نیتن یاہو کو وزارتِ عظمیٰ چھوڑنے کے بعد قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، اور ممکنہ طور پر انہیں جیل بھی جانا پڑ سکتا ہے۔
نیتن یاہو یا ان کے دفتر کی جانب سے ان الزامات پر تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
یہ بھی پڑھیئے: نیتن یاہو کو معافی دینےکی درخواست؛ اسرائیلی صدر کے معاون نے جسٹس ڈیپارٹمنٹ سے وضاحتیں مانگ لیں
اسرائیل کی سیاست کی خبر رکھنے والے ایکسپرٹس کا کہنا ہے کہ نیتن یاہو کی کرپشن کا معاملہ اسرائیلی سیاست میں ایک بڑی تبدیلی لانے کا راستہ کھول سکتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب نیتن یاہو کے خلاف ڈیموکریٹس اور بائیں بازو کے اسرائیلی شہریوں کی تحریک ہمیشہ سے زیادہ شہریوں کو متاثر کر رہی ہے۔
7 اکتوبر 2023 سے جاری غزہ جنگ اور اس کے بعد ایران کے ساتھ جنگوں کے دوران بھی یہ تحریک دبی نہیں بلکہ ان جنگوں نے نیتن یاہو کے خلاف نئی شکایات پیدا کیں اور ان کی حمایت مزید سمٹ کر اس سطح تک آ گئی ہے کہ 2026 میں طے شدہ کنیست کے انتخابات میں وہ انتہائی دائیں بازو کے اتحادیوں کے ساتھ مل کر بھی حکومت بنانے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔
ان کے خلاف تین مقدمات جو تل ابیب کی عدالت میں زیر سماعت ہیں۔ ان کا الیکشن سے پہلے فیصلہ تک پہنچنا ناگزیر ہے اور پراسیکیوشن کی طرف سے پہلے سامنے لائے گئے شواہد کی بنیاد پر ہی عدالت کا فیصلہ نیتن یاہو کو جیل پہنچا سکتا ہے۔
یہ امر اتنا یقینی ہے کہ امریکہ کے صدر ٹرمپ کو نیتن یاہو کی عام معافی کے لئے اسرائیل کے داخلی معاملات میں مداخلت کر کے اپنی بے عزتی بھی کروانا پڑی اور عام معافی کی کوشش بھی سبکی اور ناکامی سے دوچار ہوتی نظر آ رہی ہے۔ نیتن یاہو کو معافی دینے کا اختیار صدر اسحاق ہرزوگ رکھتے ہیں اور وہ اس سوال پر ٹرمپ کا کوئی دباؤ قبول نہیں کر رہے۔