وفاقی بیوروکریسی میں سزا و جزا، ایک افسر بحال، دوسرے کو جبری ریٹائرمنٹ کی سزا

Jun 29, 2026 | 22:59:PM
وفاقی بیوروکریسی میں سزا و جزا، ایک افسر بحال، دوسرے کو جبری ریٹائرمنٹ کی سزا
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(بابر شہزاد تُرک)وفاقی بیوروکریسی میں سزا و جزا کا عمل ، ایک معطل افسر کو ملازمت پر بحال اور ایک معطل افسر کی جبری ریٹائرمنٹ کی سزا دینے کے احکامات جاری کر دیے گئے۔

اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ الگ الگ نوٹیفکیشنز کے مطابق آفس مینجمنٹ گروپ کی گریڈ 18 کی افسر آمنہ شجاع، جنہیں 18 مارچ 2026 کے نوٹیفکیشن کے تحت معطل کیا گیا تھا، انہیں فوری طور پر سرکاری ملازمت پر بحال کیا گیا ہے تاہم  آمنہ شجاع کے خلاف سول سرونٹس (ایفیشنسی اینڈ ڈسپلن) رولز 2020 کے تحت انضباطی کارروائی مکمل ہونے پر انہیں 2 ماہ کیلئے ان کے مستقل عہدے اور پے اسکیل سے نچلے عہدے اور پے سکیل پر تنزلی کی بڑی سزا دی گئی ہے  جس کا اطلاق فوری طور پر ہو گا۔

 نوٹیفکیشن کے مطابق آمنہ شجاع کو سول سرونٹس (اپیل) رولز 1977 کے تحت 30 روز کے اندر اپیل دائر کرنے کا حق حاصل ہو گا، دریں اثناء، ایک اور نوٹیفکیشن کے ذریعے پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس کے گریڈ 18 کے عدنان ظفر خان کے خلاف انضباطی کارروائی مکمل ہونے کے بعد انہیں جبری ریٹائرمنٹ کی بڑی سزا سناتے ہوئے فوری طور پر ملازمت سے سبکدوش کرنے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔

 نوٹیفکیشن کے مطابق عدنان ظفر خان بھی سول سرونٹس (اپیل) رولز 1977 کے تحت نوٹیفکیشن کے اجرا کے 30 روز کے اندر متعلقہ اپیلیٹ اتھارٹی سے رجوع کر سکتے ہیں۔ 

یہ بھی پڑھیں : تقرر و تبادلے ، کیپٹن (ر) محمد محمود کو بطور سیکرٹری ہاؤسنگ اینڈ ورکس ڈویژن ریگولر کر دیا گیا