پوزیشن واضح ہے کسی بھی جارحیت کا جواب فیصلہ کن ہوگا، روس کا انتباہ
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک)روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں کہا کہ روس کا یورپ یا نیٹو ممالک پر حملے کا کوئی ارادہ نہیں ہے، تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ ہم پر ہونے والی کسی بھی جارحیت کا فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب روس اور نیٹو ممالک کے درمیان کشیدگی بڑھ رہی ہے، اور غیر مجاز پروازیں یورپی فضائی حدود میں داخل ہونے کے الزامات کے بعد خطرہ بڑھ گیا ہے۔
روس نے ان الزامات کی تردید کی ہے، جبکہ نیٹو نے مزید خلاف ورزیوں کی صورت میں دفاع کے تمام وسائل استعمال کرنے کی وارننگ دی ہے۔
لاوروف نے کہا کہ روس اور امریکہ دونوں دنیا کی موجودہ صورتحال کے ذمہ دار ہیں اور انہیں خطرات سے بچنے کے لیے اقدامات کرنے چاہییں جو انسانیت کو نئی جنگ میں دھکیل سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ امریکی انتظامیہ کے ساتھ بات چیت کے لیے امیدیں ہیں تاکہ یوکرین بحران کے حل اور عملی تعاون کی راہیں تلاش کی جا سکیں۔
یہ بھی پڑھیں:بلاول بھٹو اگلے وزیراعظم، پی پی آئندہ الیکشن میں سرپرائز دے گی : گورنر پنجاب
لاوروف نے غزہ میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ کی مذمت کی، اسرائیل کے فلسطینی شہریوں کے قتل کو کسی بھی صورت جواز نہیں قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ مغربی کنارے کے کسی بھی الحاق کی بنیاد نہیں ہے اور فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے دو ریاستی حل کی اہمیت برقرار ہے۔
اوروف کا کہنا تھا کہ روس کی پوزیشن واضح ہے، کوئی بھی جارحیت برداشت نہیں کی جائے گی، لیکن یورپ یا نیٹو پر حملے کا ارادہ نہیں۔ عالمی سطح پر روس اور امریکہ کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا تاکہ عالمی سطح پر امن قائم رہے۔