لائیو پروگرام کےدوران آخر کیا ہوا تھا؟ احسن اقبال نے حقائق بتا دئیے
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک)وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے چند روز قبل لائیو ٹی وی شو کے دوران پیش آنے والے واقعے سے متعلق تفصیلی وضاحت دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایک نجی خاندانی لمحے کو سیاسی رنگ دے کر ریاستی اداروں کے خلاف زہریلے پروپیگنڈے میں تبدیل کیا گیا، حقیقت اس کے برعکس ہے جو سوشل میڈیا پر پھیلائی جا رہی ہے۔
احسن اقبال کے مطابق وہ ایک نجی ٹی وی کے لائیو شو میں شریک تھے کہ اسی دوران ان کے دو بیٹے ویڈیو گیم کھیلتے ہوئے آپس میں الجھ پڑے، انہیں اس بات کا علم نہیں تھا کہ ان کے والد لائیو نشریات میں ہیں، تکرار کے دوران دونوں بچے کمرے میں آ گئے جس کے باعث پروگرام کچھ دیر کے لیے روکنا پڑا۔
احسن اقبال نے بتایا کہ تقریباً پانچ منٹ بعد شو دوبارہ شروع ہو گیا اور بعد میں بچوں کو معلوم ہوا کہ وہ لائیو شو میں تھے، جس پر وہ فوراً خاموش ہو گئے۔
وفاقی وزیرنے کہاکہ اس سادہ اور نجی واقعے کو پاکستان تحریک انصاف نے جان بوجھ کر غلط رنگ دیا اور اسےریاستی اداروں کے خلاف نفرت انگیز بیانیے سے جوڑنے کی کوشش کی گئی،یہ پی ٹی آئی کی پرانی روش ہے کہ نجی معاملات کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
پاسپورٹ کیلئےفنگر پرنٹس ویریفکیشن کا نیا نظام متعارف
احسن اقبال نے یاد دلایا کہ 2018 میں بھی ان کے خلاف اسی نوعیت کی مذموم مہم چلائی گئی تھی جس کے نتیجے میں انہیں نارووال میں انتخابی مہم کے دوران گولی کا نشانہ بنایا گیا، وہ واقعہ بھی نفرت انگیز پروپیگنڈے کا نتیجہ تھا۔
وفاقی وزیر نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بیرونِ ملک بعض سیاسی عناصر نے بھی اس واقعے کو ایک ریاستی ادارے سے جوڑنے کی کوشش کی جو حقائق کے منافی ہے، عوام سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی غیر مصدقہ اطلاعات پر یقین کرنے کے بجائے اصل حقائق کو مدنظر رکھیں، ریاستی اداروں کے خلاف پروپیگنڈا نہ صرف قابلِ مذمت بلکہ قومی یکجہتی کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے اور ایسے ہتھکنڈوں کو ناکام بنایا جانا چاہیے۔