کیمیکل دودھ: عوام کی صحت کے لیے خاموش قاتل
تحریر :منظور قادر
Stay tuned with 24 News HD Android App
لاہور سمیت ملک کے طول و عرض میں کیمیکل سے تیار شدہ دودھ کی فروخت ایک سنگین اور دیرینہ مسئلہ بن چکی ہے۔ خالص دودھ کے نام پر عوام کو زہر پیش کیا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں ہر عمر کے لوگ خطرناک بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں۔ یہ کاروبار اس قدر منظم ہو چکا ہے کہ حکومت، فوڈ اتھارٹی اور قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی اس پر قابو پانے میں ناکام دکھائی دیتے ہیں۔ بلکہ بے بسی کا برملا اظہار کرتے دکھائی دیتے ہیں ۔
اگر دودھ کی اصل پیداوار پر نظر ڈالی جائے تو یہ حقیقت کھل کر سامنے آتی ہے کہ ملک اور صوبوں میں اتنی گائے اور بھینسیں موجود ہی نہیں جتنے پیمانے پر دودھ کی فروخت ہو رہی ہے۔ یہ فرق اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ مارکیٹ میں بڑی مقدار میں کیمیکل ملاوٹ شدہ دودھ بیچا جا رہا ہے۔
ماہرین صحت کے مطابق اس دودھ میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والا کیمیکل یوریا ہے، جو بظاہر گاڑھا پن پیدا کرتا ہے لیکن دراصل انسانی صحت کے لیے زہر سے کم نہیں۔ یوریا ملا دودھ کے استعمال سے جگر اور گردے براہِ راست متاثر ہوتے ہیں، جس کے نتیجے میں تمام عمر کے لوگ خاص طور پر چھوٹے بچے مہلک امراض کا شکار ہو رہے ہیں۔ اسپتالوں میں مریضوں کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے اور صحت عامہ کا نظام شدید دباؤ کا شکار ہے۔
افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ اس سنگین معاملے پر حکومت کی خاموشی مجرمانہ غفلت کے مترادف ہے۔ میڈیا بھی اس مسئلے کو خاطر خواہ اجاگر نہیں کر رہا، جبکہ پولیس اور فوڈ اتھارٹی اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں بری طرح ناکام ہیں۔ اکثر رات کے وقت کیمیکل والے دودھ سے بھری گاڑیاں شہروں میں داخل ہوتی ہیں اور بغیر کسی روک ٹوک کے مارکیٹوں تک پہنچ جاتی ہیں۔ یوں ملاوٹ مافیا کو کھلی چھوٹ مل جاتی ہے اور عوام کی زندگیوں سے کھیلنا ایک نفع بخش کاروبار بن چکا ہے۔ آج کل اصل والا دودھ بغیر پانی کے تقریباً آٹھ ھزار روپے من کا ہے اور دکاندار کو بیچ کر بمشکل ایک ھزار روپے منافع ہوتا جبکہ دو نمبر دودھ ڈیرھ سے دو ھزار میں ایک من میسر ہے اور منافع کی شرح کا اندازہ آپ بخوبی لگا سکتے ہیں۔ جس وجہ ہر گلی محلوں میں درجنوں کے حساب سے نئی دوکانیں نظر آتی ہیں۔
یہ صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔ اگر فوری اور سخت اقدامات نہ کیے گئے تو نہ صرف ہماری نسل بلکہ آنے والی نسلیں شدید امراض اور کمزور صحت کے عذاب میں مبتلا ہو جائیں گی۔ حکومت کو چاہیے کہ دودھ کی پیداوار اور فروخت کے اعداد و شمار شفاف انداز میں عوام کے سامنے لائے، ملاوٹ مافیا کو عبرتناک سزائیں دے اور دودھ کی سپلائی چین کی کڑی نگرانی کرے۔ عوام خشک دودھ بھی استفادہ کرسکتے ہیں ۔
یہ جنگ حکومت اکیلے نہیں جیت سکتی۔ عوام، میڈیا اور اداروں کو مل کر اس خاموش قاتل کے خلاف کھڑا ہونا ہوگا۔ بصورتِ دیگر کیمیکل ملا دودھ ہماری آئندہ نسلوں کے مستقبل کو تباہ کر دے گا۔