ووکس ویگن میں بڑی تنظیمِ نو کی تیاری، 1 لاکھ ملازمتیں ختم ،4 فیکٹریاں بند ہونے کا امکان

Jun 27, 2026 | 10:08:AM
ووکس ویگن میں بڑی تنظیمِ نو کی تیاری، 1 لاکھ ملازمتیں ختم ،4 فیکٹریاں بند ہونے کا امکان
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک ) جرمن آٹو کمپنی ووکس ویگن اپنی تاریخ کی سب سے بڑی تنظیمِ نو پر غور کر رہی ہے، جس کے تحت 1 لاکھ تک ملازمتیں ختم کرنے اور جرمنی میں چار فیکٹریاں بند کرنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق کمپنی کے منصوبوں میں ہینوور، زویکاؤ، ایمڈن اور آڈی کے نیکرسلم پلانٹس کی ممکنہ بندش شامل ہے، جس سے 45 ہزار سے زائد ملازمتیں براہ راست متاثر ہو سکتی ہیں, مجموعی طور پر مجوزہ اقدامات کے نتیجے میں ملازمتوں میں بڑی کمی اور وسیع پیمانے پر  تعمیر نو کی تیاری کی جا رہی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ منصوبے کمپنی کے سپروائزری بورڈ کو پیش کیے جا چکے ہیں اور ان پر 9 جولائی کے اجلاس میں غور کیا جائے گا۔

ووکس ویگن  کو اس وقت چین کی سخت مسابقت  یورپ میں کم ہوتی طلب، اور امریکہ میں ٹیرف کے دباؤ جیسے چیلنجز کا سامنا ہے، جس کے باعث کمپنی کے کاروباری ماڈل پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔

 یہ بھی پڑھیں:سابق عالمی چیمپئن کھلاڑی کو کھیل کے دوران دل کا دورہ پڑ گیا

کمپنی کے سی ای او اولیور بلومے نے پہلے بھی 2024 میں بڑے کٹوتی منصوبے پیش کیے تھے، تاہم انہیں مزدور یونینوں کی سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا تھا, اس بار بھی جرمنی کی طاقتور یونین اور ورکس کونسل نے ممکنہ بندشوں کی مخالفت کا اعلان کیا ہے۔

ذرائع کے مطابق یہ تنظیمِ نو عالمی آٹو انڈسٹری کی تاریخ کی سب سے بڑی تبدیلیوں میں سے ایک ہو سکتی ہے، جس کا موازنہ جنرل موٹرز کی 2009 کی بڑی تنظیمِ نو سے کیا جا رہا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق کمپنی کو صرف اخراجات کم کرنے کے بجائے نئی اور زیادہ مانگ والی مصنوعات مارکیٹ میں لانا ہوں گی، ورنہ بحران مزید بڑھ سکتا ہے۔

دوسری جانب جرمن ریاست لوئر سیکسنی، جو کمپنی کی بڑی شیئر ہولڈر ہے، نے بھی ممکنہ پلان کی مخالفت کا عندیہ دیا ہے۔