گزشتہ 6 ماہ کا نقصان 342 ارب ،پنشن ، ڈسکوز اور دیگر اداروں کوعدم ادائیگی 1700 ارب روپے تک جاپہنچی
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24 نیوز)وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی صدارت میں سرکاری بزنس اداروں اور اثاثوں بارے اجلاس ہوا ، جس میں بتایا گیا کہ گزشتہ 6 ماہ کا نقصان 342 ارب روپے رہا،گردشی قرضہ پٹرولیم، گیس اور پاور سیکٹرز میں 4900 ارب روپے ہو گیا،پنشن کی رقوم ، ڈسکوز اور دیگر بزنس اداروں کوعدم ادائیگی 1700 ارب روپے تک جاپہنچی ہے۔ اس صورتحال میں فوری طور پر اصلاحی اقدامات لازم ہوچکے ہیں۔
وزارت خزانہ کےاعلامیہ کے مطابق سرکاری بزنس اداروں اور اثاثوں بارے ہونیوالے اجلاس میں بزنس پلان کو قومی ترجیحات اور عملی چیلنجوں کو مدنظر رکھ کر فیصلے کرنے پر زور دیا گیا، یہ ہدف بروقت اور مربوط طریقے سے حاصل کرنے کا عزم ظاہر کیا گیا۔اس موقع پر سنٹرل مانیٹرنگ یونٹ نے سرکاری بزنس کمپنیوں کی پرفارمنس پر بریفنگ دی،یہ بریفنگ جولائی 2004 تا 2024دسمبر کی پرفارمنس پر تھی،ان اداروں کو درپیش چیلنجز کی تفصیل پیش کی گئی۔
بریفننگ میں بتایا گیا کہ ان اداروں کا مجموعی نقصان 5800 ارب روپے ہوچکا، گزشتہ 6 ماہ کا نقصان 342 ارب روپے رہا، گردشی قرضہ پٹرولیم، گیس اور پاور سیکٹرز میں 4900 ارب روپے ہوگیا، اس صورتحال میں اثاثوں کی مالیت اور مالیاتی نظام کو شدید دھچکا لگا، گرانٹس، قرضوں اور سبسڈی گزشتہ 6 ماہ میں 600 ارب روپے تک جاپہنچی،یہ رقم کل وفاقی محصولات کے 10 فیصد تک ہوچکی، پنشن کی رقوم ، ڈسکوز اور دیگر بزنس اداروں کوعدم ادائیگی 1700 ارب روپے تک جاپہنچی، حکومتی گارنٹیوں کا حجم 2200 ارب تک جاپہنچا، رول اوور قرضوں پر واجب الادا رقم کا پریشر غیر معمولی طور پر بڑھ گیا،گورننس اور شفافیت کی صورتحال ناگفتہ بہ ہوچکی،حکمت عملی کا فقدان بزنس پلان کو شدید نقصان پہنچا رہا ہے اور اس صورتحال میں فوری طور پر اصلاحی اقدامات لازم ہوچکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:سونے کی فی تولہ قیمت میں ہزاروں روپے کمی