بھارت کو دیا گیا فیصلہ کن جواب تاریخ ہمیشہ یاد رکھے گی؛وزیراعظم کا جنرل اسمبلی سے خطاب
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز)وزیراعظم شہباز شریف کاکہنا ہے کہ پہلگام واقعہ کو سیاسی طور پر استعمال کیا گیا، پہلے ہی بتادیا تھا پاکستان بیرونی جارحیت کا بھرپور دفاع کرے گا،بھارت کو دیا گیا فیصلہ کن جواب تاریخ ہمیشہ یاد رکھے گی، صدر ٹرمپ مداخلت نہ کرتے تو مکمل جنگ کے نتائج تباہ کن ہوسکتے تھے ۔
وزیراعظم شہبازشریف جنرل اسمبلی سے خطاب کیلئے آئے تو مندوبین نے تالیاں بجا کر وزیراعظم شہباز شریف کو خوش آمدید کہا۔وزیراعظم شہبازشریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اجلاس سےخطاب کا آغاز قرآنی آیات سے کیا۔ وزیراعظم نے سورۃالبقرہ کی آیت نمبر 217 کی تلاوت کی۔
وزیراعظم شہبازشریف کاکہناتھا کہ دنیا تقسیم کا شکار ہوچکی ہے عالمی قوانین کی جان بوجھ کر خلاف ورزی کی جارہی ہے ، دنیا بھر میں تنازعات شدت اختیار کر چکے ہیں ، انسانی بحران بڑھتے جا رہے ہیں موسمیاتی تبدیلی کے خطرات منڈلا رہے ہیں ۔ عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی کی جارہی ہے ۔
وزیراعظم شہبازشریف نے کہاکہ پاکستان نے بھارت کے 7 طیارے گرائے ، ہم نے پاکستان پر حملہ آور مغرور دشمن کی ناک پھوڑ دی، ان کاکہناتھا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے جنگ میں بہترین قائدانہ کردار ادا کیا ، ایئر چیف ظہیر احمد بابر سدھو کی قیادت نے 7 بھارتی طیاروں کو ملبہ بنادیا۔
وزیراعظم پاکستان نے کہاکہ پہلگام واقعہ کو سیاسی طور پر استعمال کیا گیا، پاکستانی قوم بنیان مرصوص (آہنی دیوار) کے طور پر کھڑی رہی، پہلے ہی بتادیا تھا پاکستان بیرونی جارحیت کا بھرپور دفاع کرے گا۔بھارت کو دیا گیا فیصلہ کن جواب تاریخ ہمیشہ یاد رکھے گی۔
ٹرمپ امن کے نوبل انعام کے مستحق
وزیراعظم نے کہاکہ صدر ٹرمپ مداخلت نہ کرتے تو مکمل جنگ کے نتائج تباہ کن ہوسکتے تھے ، طاقت میں برتری کے باوجود پاکستان جنگ بندی پر آمادہ ہوا، پاکستان نے بھارت کے خلاف جنگ جیتی۔پاک بھارت جنگ رکوانے پر ٹرمپ امن کے نوبل انعام کے مستحق ہیں۔
پاکستان نے بھارت کو مربوط، مؤثر، بامعنی اور نتیجہ خیز مذاکرات کی دعوت دیدی، وزیراعظم نے کہاکہ سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کو اعلان جنگ تصورکیا جائے گا،
وزیراعظم شہبازشریف نے مظلوم کشمیریوں کا مقدمہ اٹھادیا
جنرل اسمبلی میں خطاب کے دوران پاکستان زندہ باد کے نعرے لگ گئے۔
وزیراعظم نے کہاکہ ہم نے بھارت سے جنگ جیتی اور امن کی بات کی ، ایک دن کشمیریوں کو حق خود اردایت مل کر رہے گا ۔ کشمیریوں کو یقین دلاتا ہوں کہ پاکستان ان کے ساتھ ہے ۔
پاکستان کا غزہ میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ
وزیراعظم نے کہاکہ پاکستان 1967 سے پہلے کا فلسطین چاہتا ہے،آزادفلسطین کا دارالحکومت القدس شریف ہونا چاہئے، فلسطینیوں کی نسل کشی سراسر دہشت گردی ہے، فلسطینیوں سے ناانصافی عالمی ضمیر پر داغ ہے ، غزہ میں ہونے والا ظلم دنیا کاتاریک ترین باب ہے۔
وزیراعظم شہبازشریف نے کہاکہ قطر پر حملہ اسرائیل کے دہشت گردانہ رویہ کا عکاس ہے، مسلم سربراہان سے صدر ٹرمپ کی ملاقات سے غزہ میں جنگ بندی کی نئی شمع روشن کی ہے ، پاکستان ہر قسم کی دہشت گردی کی مذمت کرتا ہے ،ان کاکہناتھا کہ پاکستان نے دہشت گردی کی جنگ کی بڑی قیمت چکائی ہے، ہم نے دہشت گردی کی جنگ میں ہزاروں جانوں کی قربانی دی ہے، پاکستان دنیا سے دہشت گردی کا خاتمہ چاہتا ہے، اسلام آباد میں قتل ہونے والا لندن میں قتل ہونے کے برابر ہے، جعفرایکسپریس کو اغوا کرکے معصوم شہریوں کو قتل کیا گیا،انتہاپسندی سے دنیا کو خطرہ ہے۔ٹی ٹی پی ، فنتہ الخوارج ، بی ایل اے افغان علاقوں سے پاکستان میں دہشت گردی کررہے ہیں ، افغان عبوری حکومت دہشت گرد گروپوں کے خلاف کارروائی کرے ۔
وزیراعظم کاکہناتھا کہ پاکستان نے بدترین سیلاب کا سامنا کیا، خوفناک سیلاب بستیوں کی بستیاں بہا لے گیا۔
وزیراعظم نے کہاکہ سی پیک پاکستان کی ترقی میں کردار ادا کررہا ہے ، ٹیکس اصلاحات اور دیگر اقدامات سے معشیت بہتر کررہے ہیں ، معشیت کو مستحکم کرنے کے لیے بنیادی اصلاحات لائی گئیں۔