وزیراعلیٰ مریم نواز نے’’ انسولین کارڈ ‘‘لانچ کر دیا، ایک بچے کوگھرجاکر کارڈ دیا

May 26, 2025 | 18:19:PM
وزیراعلیٰ مریم نواز نے’’ انسولین کارڈ ‘‘لانچ کر دیا، ایک بچے کوگھرجاکر کارڈ دیا
کیپشن: تصویر، فائل
سورس: Google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

 (راو دلشاد) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے پیدائشی طور پر یا کمسنی میں ذیابیطس ٹائپ ون میں مبتلا کمسن مریض بچوں کے لیے”سی ایم انسولین برائے ذیابیطس“ کے منفرد پروگرام کا آغاز کر دیا ہے۔وزیراعلیٰ مریم نواز نے خود جاکر”سی ایم انسولین کارڈ“ پروگرام لانچ کیا۔

وزیراعلیٰ مریم پاکستان پوسٹ کے رائیڈرز کے ہمراہ خودانسولین کارڈ لے کرکمسن بچوں کے گھروں میں پہنچ گئیں۔ وزیراعلیٰ  نے سبزہ زار کیو بلاک کے واسع عدنان کو گھرجاکر انسولین کارڈ دیا۔ وزیر اعلیٰ مریم نواز  نے جمیل ٹاؤن جاکرزینب وحید اور زین شہزاد کوبھی ”سی ایم انسولین کارڈ“ دیا۔ وزیر اعلیٰ  نے واسع، زینب اور زین کو انسولین،گلوکو میٹربی ایس آر سٹرپس اور نیڈل کا باکس بھی دیا۔

وزیر اعلیٰ مریم نواز  نے کمسن واسع عدنان کی دادی سے گلے ملیں اور دیگر اہل خانہ سے بھی سلام لیا۔وزیر اعلیٰ  نے کمسن مریض واسع عدنان کا گال تھپتھپایا اور کہا کہ آپ بالکل اینجل لگتے ہو۔3 بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹا واسع پیدائشی طور پر ذیابیطس کا شکار ہے۔

وزیر اعلیٰ  نے5سالہ واسع عدنان کو کاربھجوانے کا وعدہ بھی کیا۔ وزیر اعلیٰ مریم نواز  نے زینب وحید سے بات چیت کی اور اظہار شفقت کیا۔ وزیر اعلیٰ مریم نواز  نے زین شہزاد کی آنکھوں کے چیک اپ اور علاج معالجے کی ہدایت بھی کی۔

وزیر اعلیٰ مریم نواز  کی آمد پر چھتوں اور گلیوں کے اطراف میں عوام کا ہجوم امڈ آیا۔ وزیر اعلیٰ  کی آمد پر بچیوں نے پر پھول نچھاور کیے اور ان کا خیر مقدم کیا۔ وزیر اعلیٰ  نے بچیوں کی درخواست پرتصاویر بھی بنوائیں۔ بزرگ خواتین نے وزیر اعلیٰ  کو دعائیں دیتے ہوئے کہا کہ اپنی بیٹی کے انتظار میں صبح سے کھڑی ہیں، اللہ تعالیٰ آپ کو بلندیوں پر لیجائے۔

 وزیراعلیٰ مریم نواز نے اہل خانہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جتنی آپ کو اپنے بچوں کی فکر ہے اس سے کہیں زیادہ مجھے آپ کے بچوں کی فکر ہے۔ ذیابیطس مبتلا بچوں کی تکلیف اور پریشانی سمجھ سکتی ہوں۔کمسن بچوں کے لیے فری انسولین پروگرام ماں کے دل کی آواز پر شروع کیا گیا۔

 صحت مند پنجاب ویژن کے تحت دوا یا انسولین خریدنے کی سکت نہ رکھنے والے بچوں تک حکومت خود پہنچے گی۔ بچوں کی صحت سب سے زیادہ اہم ہے۔ پہلی مرتبہ بچوں کو انسولین کے ساتھ گلو کو میٹر، ٹیسٹ سٹرپس بھی دے رہے ہیں۔ بچے قوم کا مستقبل ہے ان کے لئے سارے وسائل حاضر ہیں۔ بچوں میں ذیابیطس کے مرض کا تیزی سے پھیلاؤ قابل فکر امر ہے۔

 وزیراعلیٰ مریم نواز کو انسولین کارڈ پروگرام کے بارے میں بریفنگ میں بتایا گیا کہ فری انسولین پروگرام کے تحت پہلے مرحلے میں 1500بچوں کو گھر کی تک دہلیزپر انسولین فراہم کی جائے گی۔ پاکستان پوسٹ کے رائیڈر خصوصی ایپ پرانسولین کارڈ سکین کرکے تصدیق کریں گے۔ سی ایم انسولین کارڈ کی سکیننگ کے بعد مریض کو انسولین ملے گی۔

بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ پاکستان پوسٹ کے رائیڈر کولڈ چین سسٹم کے تحت گھر گھر جاکر ٹائپ ون ذیابیطس بچوں کے لئے تین ماہ کے لیے درکار انسولین مہیا کریں گے۔ صرف سہ ماہی چیک اپ کے لئے ہی ہسپتال جانا پڑے گا۔ ٹائپ ون ذیابیطس میں مبتلا بچے این سی ڈی کلینک، مریم نوازہیلتھ کلینک یا ہیلتھ لائن ایپ 1033پر رجسٹریشن کراسکتے ہیں۔ ٹائپ ون ذیابیطس میں مبتلا بچوں کے لئے ڈسٹرکٹ یاتحصیل ہیڈکوارٹر زمیں سہ ماہی فالو اپ چیک اپ لازمی قرار دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں :عالمی مارکیٹ میں سونا سستا، پاکستان میں بھی قیمت گر گئی