پالیسی ریٹ میں کمی نہ کرنا بزنس کمیونٹی کی توقعات کیخلاف ہے،ایف پی سی سی آئی
Stay tuned with 24 News HD Android App
(اشرف خان ،شہزادعبدالی)سٹیٹ بینک کی جانب سے شرح سود برقرار رکھنے کے اعلان پر ایف پی سی سی آئی اورلاہور چیمبر آف کامرس کا ردعمل آ گیا۔
فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سینئرنائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے مانیٹری پالیسی پر بیان میں کہا ہے کہ پالیسی ریٹ میں کمی نہ کرنا بزنس کمیونٹی کی توقعات کے خلاف ہے، مہنگائی 5.6 فیصد پر آگئی، پھر بھی شرح سود میں کمی نہیں کی گئی، زائد شرح سود نے کاروباری لاگت ناقابلِ برداشت بنا دی،سٹیٹ بینک فوری نظرثانی کرے۔
ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے مانیٹری پالیسی کمیٹی کی جانب سے پالیسی ریٹ میں کمی نہ کرنے پر شدید مایوسی کااظہار کرتے ہوئے اس فیصلے کو فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس ایند انڈسٹری اور مجموعی بزنس کمیونٹی کی توقعات کے بالکل برعکس قرار دیا ہے۔
ان کاکہناتھا کہ ملک میں مہنگائی کی شرح میں بتدریج کمی واقع ہو رہی ہے ، اس وقت افراطِ زر 5.6 فیصد کی سطح پر آچکی ہے ،جسے مدنظر رکھتے ہوئے پالیسی ریٹ میں کمی کی واضح گنجائش موجود تھی۔
سینئر نائب صدر ایف پی سی سی آئی کاکہناتھا کہ اس صورتحال میں سٹیٹ بینک بآسانی پالیسی ریٹ کو سنگل ڈیجٹ میں لا سکتا تھا ،تاہم ایسا نہ کرنا کاروباری طبقے کے لیے مایوس کن ہے۔ان کاکہناتھا کہ بزنس کمیونٹی کی توقع تھی کہ پالیسی ریٹ کم از کم 7 سے 8 فیصد کی سطح تک لایا جائے گا تاکہ کاروباری سرگرمیوں کو فروغ مل سکے۔
ثاقب فیاض مگوں نے کہاکہ کاروبار کرنے کی مجموعی لاگت بڑھ چکی ہے ،بجلی و توانائی کی قیمتیں بھی غیر معمولی حد تک بلند ہیں، ایسے میں بلند شرح سود صنعتی و تجارتی سرگرمیوں کو مزید متاثر کر رہی ہے۔ان کاکہناتھا کہ حکومت اور سٹیٹ بینک کو زمینی حقائق اور معاشی حساب کتاب کو سامنے رکھتے ہوئے فوری طور پر پالیسی ریٹ میں کمی کا فیصلہ کرنا چاہیے تھا۔
یہ بھی پڑھیں:گھر بنانے والوں کیلئے بری خبر، سیمنٹ کی بوری مہنگی ہوگئی
ادھرصدرلاہور چیمبر آف کامرس نے بھی شرح سود برقرار رکھنے کے فیصلے کو کاروباری طبقے کیلئے مایوس کن قرار دیتے ہوئے کہاکہ بلند شرح سود سے سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی متاثر ہو رہی ہے۔
فہیم الرحمن سہگل کاکہناتھا کہ نجی شعبے کی سرمایہ کاری مسلسل دباؤ کا شکار ہے،مہنگے قرضوں نے صنعتکاروں کے مسائل میں اضافہ کر دیا،چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار قرض لینے سے قاصر ہیں،شرح سود میں کم از کم ڈیڑھ سے دو فیصد کمی ناگزیر ہے۔
تنویر احمد شیخ نے کہاکہ توانائی اور ٹیکسوں کے بعد مہنگی فنانسنگ بڑا مسئلہ بن گئی،شرح سود برقرار رہنے سے توسیعی منصوبے مؤخر ہونے کا خدشہ ہے۔
خرم لودھی کاکہناتھا کہ علاقائی ممالک کے مقابلے میں پاکستان کم مسابقتی ہو رہا ہے۔
فہیم الرحمن سہگل نے کہاکہ سٹیٹ بینک کے فیصلے سے مارکیٹ میں بے یقینی کی فضا پیدا ہوئی ہے ۔
لاہور چیمبر آف کامرس نے آئندہ مانیٹری پالیسی میں کاروبار دوست فیصلوں کا مطالبہ کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ساف فٹسال چیمپئن شپ بھارت نے جیت لی،فائنل میں پاکستان کو کتنے گولز سے شکست ہوئی؟