غزہ کیلئے 21 نکاتی امن منصوبہ اسرائیل کی خواہشات پوری کرنے کوشش ہے؛ سلیم بخاری
Stay tuned with 24 News HD Android App
(فرخ احمد) امریکی صدر نے مسلم رہنماؤں کو مشرق وسطیٰ اور غزہ کیلئے 21 نکاتی امن منصوبہ پیش کردیا ہے ،سینئر تجزیہ کار سلیم بخاری نے ’’21 نکاتی امن منصوبہ ‘‘ پر اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس کے اندر بھی کوشش کی گئی ہے کہ اس میں اسرائیل کی خواہشات پوری ہوں۔
سینئر تجزیہ کار سیلم بخاری نے اس منصوبے کے حوالے سے کہاکہ اس پر عمل ہوگا یا نہیں اس کا دارومدارنیتن یاہو کے رویے پر ہے جو ابھی تک دھمکی آمیز گفتگو کرتے ہیں اور بڑی بڑی طاقتوں کو جواب دیتے ہیں جو ان کا ناطقہ بند کرسکتے ہیں،21 نکاتی منصوبہ اس میں نمبر ون پوائنٹ قیدیوں کی رہائی جس کا مطلب اسرائیلی اینڈ نیتن یاہو کا انٹرسٹ،اسرائیلی قیدیوں کی رہائی، کوئی جنگ بندی نہیں کوئی فلسطینی قیدیوں کی رہائی۔
دوسرا اہم پوائنٹ مستقل جنگ بندی اس پر ناتو اسرائیل آج تک مانا نہ ہی امریکہ مانا، اسرائیلی مستقل جنگ بندی کے بعد فوری نہیں نکلیں گے بلکہ بتدریج نکلیں گے،اس کا مطلب طویل عرصہ تک اسرائیلی فوج کی موجودگی کو یقینی بنایا جارہا ہے۔
تیسرا پوائنٹ غزہ میں حماس کے بغیر حکومتی ڈھانچے کی تشکیل یعنی حماس کو سرے سے ہی ختم کر دیا جائے،یہ نیتن یاہو کا سب سے بڑا مطالبہ ہے او ر اس کو اس میں خاص طور پر شامل کیا گیا ہے،سیکیورٹی فورس کا قیام جس میں عرب اور دیگر ممالک شامل ہونگے جو عرب ممالک کا مطالبہ تھا کہ عرب ممالک یہاں حکومت بنائیں گے اور انتظامی ڈھانچہ تشکیل دیں گے وہ مطالبہ تو ختم شد۔
سلیم بخاری نے اسے منصوبے کے حوالے سے یہ بھی کہا کہ نئی انتطامی ڈھانچے کی تعمیر نو کے لیے عرب ممالک فنڈنگ کریں گےیعنی تباہ کرے اسرائیل اور امریکہ لیکن تعمیر کریں عرب، امریکی۔
علاوہ ازیں ، سینئر صحافی کا کہنا تھا کہ وائٹ ہاوس میں پاکستانی وزیر اعظم کو جس قسم کے میڈیا اور یہودی لابی کا سامنا کرنا ہے کیا شہباز شریف اس قابل ہیں کہ وہ ان سوالات کے جوابات دے سکیں گے،انہوں نے کہا کہ غزہ پر اس ملاقات کو زیر بحث لانا بہت ضروری ہے،غزہ کے متعلق فوج کے کردار اور پاک سعودی دفاعی معاہدہ بھی اس ملاقات میں ضرور ڈسکس ہوگا کیونکہ وہ بھی اس صدی کی سب سے بڑی ڈویلپمنٹ ہے اور اس معاہدے کی تکلیف بھارت سمیت کس کس کے پیٹ میں ہے۔
سلیم بخاری کا کہنا تھاکہ پاک بھارت تعلقات بھی ضرور ڈسکس ہوں گے،چین کے بارے میں امریکہ کو کیا ہماری یہ قربت ایک انکھ بھاتی ہے،سی پیک چین اور ہمارے لیے بہت اہم ہے ہماری اکانومی کی بقا کے لیے سی پیک بہت اہمیت کی حامل ہے۔
ان کا کہنا تھاکہ اس سب کے علاوہ ہم خود امریکہ کو کس طرح دیکھ رہے ہیں کہیں ہم خود ایک بار پھر امریکہ کے ہاتھوں استعمال ہونے تو نہیں جارہے کیونکہ ستر دہائیوں میں آج تک امریکہ نے ہیں اپنے مفاد کےلیے ہی استعمال کیا ہے او ر ہیں ہمیشہ استعمال کر کےایک نئے عذاب میں ڈال کے چلے گئے، چاہے وہ افغان جہاد ہو جس کےبدلے میں ہمیں کلاشنکوف اور ہیروئین کلچر کے تحفے ملے اور لاکھوں افغان باشندوں کا بوجھ ہمارے گلے ڈال کر چلتے بنے۔
بلوچستان میں دہشتگردوں کے لیے آپریشن یا مذکرات ؟
اس پر اپنی رئے کا اظہار کرتے ہوئے سلیم بخاری نے کہا کہ بلوچستان کے عوام کی شکایات اپنی جگہ ہیں، دہشتگردی کا مسئلہ سب سے بڑا مسئلہ ہے، انہوں نے ماضی میں آصف زرداری کے بلوچستان کے مسائل کے حل کے لیےکی گئی تقریر کا بھی حوالہ دیا جس میں انہوں نے آغاز حقوق بلوچستا ن کے لیے کی گئی کوششوں کو سراہا اور کہا کہ ماضی میں بھی دہشتگردی کے خلاف جنگ میں کامیاب ہوئے ہیں تاہم بلوچستان کا حل سیاسی ہے، سیاسی اتفاق رائے سے ایسے فیصلے لینے پڑیں گےتاکہ کہ عوام کا فائدہ ہو۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں علیحدگی پسند دہشتگردوں کو آج بھی افغانستان کی سرپرستی حاصل ہے،بلوچستان کے بارے میں جو باتیں بتائی جارہی ہیں وہ درست نہیں، دہشت گرد کا کوئی قبیلہ نہیں ہوتا، بلوچستان کو حقوق سیاسی جدوجہد کے ذریعے پارلیمنٹ سے ملے، تشدد کی سیاست سے نہیں۔
سینئر تجزیہ کار کا کہنا تھا کہ بلوچستان کےکیس میں کئی ایسے ممالک ہیں جہاں سے پاکستان کے خلاف نفرت پھیلائی جاتی ہے۔
سلیم بخاری کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کو توڑنے کی کوشش کی جا رہی ہےہمارے پاس بہترین لوگ ہیں، بلوچستان میں لوگ سسٹم کو نہیں بدلنا چاہتے، دہشت گردوں کا بلوچستان سے کوئی تعلق نہیں، بلوچستان میں علیحدگی پسند دہشت گردوں کو آج بھی افغانستان اور بھارت کی سرپرستی حاصل ہے، ریاست کے خلاف بندوق اٹھانے والوں کو قانون کے مطابق جواب دینا ہوگا اور ان دہشتگردوں کو ان کی زبان میں ہی جواب دینا ہوگا تاکہ ان مٹھی بھر دہشتگردوں کا خاتمہ ہو سکے۔
یہ بھی پڑھیں: ججز کے ٹرانسفر سے متعلق سپریم کورٹ کا تفصیلی فیصلہ آئین و قانون کے مطابق ہے ،بیرسٹر عقیل ملک