افغان حکومت پرپریشرہے اسی لیے انہوں نے سیز فائرکیا؛سابق سفیر برائےافغانستان منصوراحمدخان
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز) سابق سفیر برائے افغانستان منصور احمد خان نے کہاہے کہ افغان حکومت پر پریشر ہے اسی لیے انہوں نے سیز فائر کیا اسی طرح میکینزم پر بھی راضی ہو جائیں گے۔
24 نیوز کے پروگرام’’ نسیم زہرا @پاکستان‘‘ میں گفتگو میں گفتگو کرتے ہوئےسابق سفیر برائے افغانستان نے کہا کہ 2021 کے بعد سے ٹی ٹی پی کے حوالے سے پاکستان کا مسئلہ صرف میکینزم رہا ہے، پاکستان افغانستان کو ثبوت دیتا ہے لیکن افغانستان اُس کو مانتا نہیں،افغان حکومت پر پریشر ہے اسی لیے انہوں نے سیز فائر کیا اسی طرح میکینزم پر بھی راضی ہو جائیں گے۔
پروگرام میں بات کرتے ہوئے ماہر افغان امور احسان اللہ ٹیپو محسود نے کہا کہ پاکستان نے بات چیت سے افغان طالبان کیساتھ مسئلہ حل کرنے کی کوشش کی مگر ہوا نہیں،انہوں نے مزید کہا کہ پاک افغان مذاکرات میں پاکستان جو ٹی ٹی پی کے اہلکار افغانستان میں ہیں ان کے ثبوت افغان طالبان کے سامنے رکھے ہیں۔
پروگرام میں بات کرتے ہوئے سابق سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے کہا کہ جب تک امریکہ پر یشر نہیں ڈالے گا اسرائیلی وزیر اعظم کا امن کا کوئی ارادہ نہیں،اگر معاہدہ ہونے کے بعد بھی امن قائم نہیں ہوتا تو اگلی بار کون ٹرمپ پر اعتماد کرے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ جنہوں نے ٹرمپ کو مین آف پیس قرار دیا تھا انہیں تھوڑا انتظار کرنا چاہیے تھا کہ کہاں امن آیا ہے اور کیا امن لا بھی سکتے ہیں یا نہیں۔
یہ بھی پڑھیں : سابق امریکی نائب صدر کملا ہیرس کا دوبارہ صدارتی انتخاب لڑنے کا عندیہ