جعلی ویزوں کا انکشاف ،دبئی میں روزگار کے خواہشمند نوجوان ہو جائیں ہوشیار
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24 نیوز) متحدہ عرب امارات کی وزارتِ افرادی وسائل و امارات کاری نے بیرونِ ملک سے روزگار حاصل کرنے والے افراد کو خبردار کیا ہے کہ حالیہ دنوں میں جعلی ملازمتوں اور ویزا فراڈ کے کیسز میں تشویش ناک اضافہ ہوا ہے۔
وزارت کے مطابق متعدد جعلساز خود کو معروف کمپنیوں یا ریکروٹمنٹ ایجنسیوں کے نمائندے ظاہر کر کے درخواست دہندگان سے ملازمت کے نام پر ویزا یا انٹری فیس کی مد میں رقم وصول کر رہے ہیں۔
وزارت نے واضح کیا کہ متحدہ عرب امارات میں حقیقی ملازمت کی پیشکش صرف وزارتِ افرادی وسائل و امارات کاری کے ذریعے ہی جاری کی جاتی ہے اور اس کے ساتھ سرکاری ورک انٹری پرمٹ لازمی طور پر فراہم کیا جاتا ہے۔
مزید پڑھیں:پتنگ بازی پرمکمل پابندی کیلئےوزیراعلیٰ ،آئی جی،چیف سیکرٹری سمیت دیگرکو خط
بیان میں کہا گیا کہ اگر کوئی شخص آپ کو متحدہ عرب امارات میں نوکری کی پیشکش کرتا ہے تو یقینی بنائیں کہ وہ پیشکش موہری کے ذریعے ہو۔
متحدہ عرب امارات کے قانون کے مطابق بھرتی کے تمام اخراجات آجر (کمپنی) برداشت کرے گی، امیدوار سے کوئی فیس وصول نہیں کی جا سکتی۔
کمپنی کی ساکھ کی تصدیق کے لیے “نیشنل اکنامک رجسٹر” پر رجسٹریشن چیک کرنا ضروری ہے۔
ویزا کی اصلیت جانچنے کے لیے دبئی کے ویزوں کے لیے جی ڈی آر ایف اے ویب سائٹ جبکہ دیگر امارات کے لیے آئی سی پی ای چینلز پلیٹ فارم استعمال کیا جا سکتا ہے۔