مسئلہ افغانستان سے ہے اسکی عوام سے نہیں: ڈی جی آئی ایس پی آر
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24 نیوز)ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا ہے کہ پاکستان کا مسئلہ افغانستان کی ریاستی پالیسیوں سے ہے، وہاں کے عوام سے نہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان جب بھی افغان سرزمین پر موجود دہشتگردوں کے خلاف کارروائی کرتا ہے تو اس کا باضابطہ اعلان کرتا ہے، پاکستان کبھی سویلین پر حملے نہیں کرتا۔
منگل کے روز سینئر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ طالبان حکومت ریاست کی طرح فیصلہ کرے ،نان اسٹیٹ ایکٹر کی طرح فیصلہ نہ کرے،طالبان حکومت کب تک عبوری رہے گی،پاکستان اپنے شہریوں اور سرحدوں کے تحفظ کے لیے کسی بھی حد تک جائے گا۔دہشتگردوں کا آخری دم تک پیچھا کیا جائے گا، اور ان کے خلاف کارروائیاں بھرپور انداز میں جاری رہیں گی۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ خطے میں امن و استحکام کے لیے پاکستان اپنی ذمہ داریاں پوری کرتا رہے گا اور دہشتگردی کے خلاف جنگ قومی سلامتی کی اولین ترجیح ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ نہیں ہو سکتا کہ ہم پر حملے ہوں اور ہم تجارت بھی کریں،ہماری نظر میں کوئی گڈ اور بیڈ طالبان نہیں ہے ،دہشت گردوں میں کوئی تفریق نہیں۔
ترجمان پاک فوج کاکہناتھا کہ جنرل فیض حمید کا ٹرائل قانونی معاملہ ہے اس پر قیاس آرائی نہ کی جائے ،جب یہ معاملہ حتمی نتیجے پر پہنچے گا فوری طور پر اعلان کردیا جائے گا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہاکہ نان کسٹم پیڈ گاڑیوں پر فوری پابندی عائد کی جائے،دہشتگردی کے بہت سے واقعات میں نان کسٹم پیڈ گاڑیاں استعمال ہوئیں ،ہم ریاست ہیں ، ریاست کے طورہی ردعمل دیتے ہیں ،بلڈ اوربزنس ایک ساتھ نہیں چل سکتے ،یہ نہیں ہوسکتا کہ ہم پرحملے بھی ہوں اور ہم تجارت بھی کریں،ہم افغان عوام کے نہیں بلکہ دہشتگردی کے خلاف ہیں ،ہم افغان عوام کے نہیں بلکہ دہشتگردی کے خلاف ہیں ،ایکشن بتاتا ہے کہ تحریک طالبان افغانستان اورٹی ٹی پی میں کوئی فرق نہیں،ہم حق پر ہیں اور حق غالب آئے گا۔
ترجمان پاک فوج نے کہاکہ ایک سیاسی جماعت اوردیگرعناصر کے سوشل میڈیا اکاونٹس بیرون ممالک سے آپریٹ ہورہے،یہ سوشل میڈیا اکاونٹس ریاست مخالف مہم چلا رہے ہیں،ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہاکہ 4 نومبر سے ابتک 4910 انسداد دہشتگردی آپریشن ہوئے ہیں ،ہر روز 232 آپریشن ہوئے ہیں ،336 دہشتگردی کے واقعات ہوئے ہیں ۔