پہلگام حملہ،ہندو توا نے ’’ات مچا دی‘‘ دو مسلم مزدوروں کو کام سے روک دیا
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک) بھارت کی ریاست اترپردیش میں پہلگام حملے کو جواز بنا کر دو مسلم مزدوروں کو مندر میں کام سے روکا دیا گیا،بھارت میں ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے جس میں ایک ہندوتوا گروپ کے ایک کارکن کو ایک مسلمان مزدور سے اپنا سامان باندھ کر جانے کو کہتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
بھارتی ذرائع ابلاغ نے پریس ٹرسٹ آف انڈیا کی رپورٹ کے حوالے سے بتایا ہے کہ اتر پردیش کے ضلع ہاتھرس میں واقع ایک مندر میں دو مسلم مزدوروں کو ہندوتوا گروپ کے اراکین نے کام سے روک دیا، جس کی وجہ انہوں نے پہلگام میں ہونے والےحملے کو بتایا۔ ایک ویڈیو بھی وائرل ہو رہی ہے جس میں ایک شخص کو شری بالکیشور مہادیو مندر کی تعمیراتی جگہ پر کام کرنے والے ایک مسلم مزدور کو کام بند کرنے کو کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے۔ ویڈیو میں ایک شخص مزدور سے کہتا ہے: ’’پہلگام کے دہشت گردی حملے میں ہندوؤں کو نشانہ بنا کر مارا گیا۔ اسی لیے ہم آپ کو ہمارے مندر میں کام کرنے سے روک رہے ہیں۔ تم لوگ... ہندو مت کو نشانہ بنا رہا ہے اور ہندوؤں کو چن چن کر مار رہا ہے‘‘۔رپورٹ کے مطابق مزدوروں کو ڈیموکریٹک ہیومن رائٹس ایسوسی ایشن کے سیکرٹری پروین ورشنی اور کچھ دیگر افراد نے روکا۔ گروپ نے مزدوروں کو کام بند کرنے کو کہا اور اعلان کیا کہ اب ان کی جائیدادوں پر مسلمانوں کو کام پر نہیں رکھا جائے گا۔ پروین ورشنی نے کہاکہ ’’ حملے کے خلاف غصہ پورے بھارت میں پھیل رہا ہے۔مندر کا باقی کام ہندو مزدور مکمل کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں: پہلگام حملے کے بعد امیتابھ بچن کی ٹویٹ نے ہنگامہ کھڑا کر دیا،بھارتی ناراض