مسئلہ کشمیر شملہ معاہدے اور 1999 کے لاہور ڈیکلیریشن کے تحت حل ہونا چاہیے: روس

Sep 24, 2025 | 19:42:PM
مسئلہ کشمیر شملہ معاہدے اور 1999 کے لاہور ڈیکلیریشن کے تحت حل ہونا چاہیے: روس
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: 24 نیوز
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

( انور عباس) روس نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر شملہ معاہدے اور 1999 کے لاہور ڈیکلیریشن کے تحت حل ہونا چاہیے،پاکستان کے سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں،دفاعی معاہدے کی ایک وجہ اسرائیل کی طرف سے قطر پر حالیہ حملہ بھی ہے۔

روسی سفارتخانے میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان میں روسی فیڈریشن کے سفیر البرٹ پی خورئیو نے کہا ہے کہ امریکہ کی طرف سے بگرام بیس کو دوبارہ واپس لینےکے دعووں کی مخالفت کرتے ہیں،مئی میں پاک بھارت تنازعہ کے دوران روس نے توازن اختیار کرنے کا کہا تھا مئی میں پاک بھارت تنازعہ کے دوران روس نے توازن اختیار کرنے کا کہا تھا,ان کا کہنا تھا کہ ہمارا موقف ہے کہ مسئلہ کشمیر شملہ معاہدے اور 1999 کے لاہور ڈیکلیریشن کے تحت حل ہونا چاہیے۔ 

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں دفاعی معاہدے کی ایک وجہ اسرائیل کی طرف سے قطر پر حالیہ حملہ بھی ہے،امریکہ کی طرف سے بگرام بیس کو دوبارہ واپس لینے کی بات نوآبادیاتی نظام کی عکاس ہے،اس کو دوبارہ واپس لینے کے دعووں کی مخالفت کرتے ہیں اگر امریکہ افغانستان میں کوئی مثبت کردار ادا کرنا چاہتا ہے تو افغانستان کے 10 ارب ڈالرز کے منجمند اثاثے کھول دے روسی سفیر نے کہا کہ پاکستان اسٹیل ملز کی بحالی پر دونوں ممالک کے مذاکرات جاری ہیں، پاکستانی حکومت کے مشکور ہیں کہ بیرونی طاقتوں کے دباو کے باوجود یوکرین تنازعہ میں غیر جانبداری برقرار رکھنے کی مستقل پالیسی پر عمل پیرا ہے اور اس کے سفارتی حل کی پرزورحمایت کرتا ہے، پاکستانی موقف روسی موقف سے ہم آہنگ ہے۔ روسی سفیر نے کہا کہ پاکستان میں سروائیکل کینسر کی ویکسین پر ابھی کوئی پیش رفت نہیں ہوئی تاہم چند فارما سوئیٹیکل کمپنیوں سے بات چیت جاری ہے،چین کے ساتھ روس کے تعلقات اچھی سطح پر ہیں یوکرین کے معاملے پر امریکہ سمجھداری کا مظاہر ہ کررہا ہے  تاہم یورپ جارحیت کررہا ہے یوکرین کے گذشتہ چند ماہ میں روس میں ڈرون حملوں کی تعداد میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

 البرٹ پی خورئیو نے کہا کہ یوکرین عارضی جنگ بندی کو یورپی فوجی و مالی امداد کا استعمال کرتے ہوئے دوبارہ منظم اور مسلح کرنا چاہتا ہے خصوصی فوجی کارروائی کے آغاز سے اب تک یوکرین کو کل امداد تقریبا 70.2 ارب ڈالرز تک پہنچ چکی ہے یوکرینی صف زیلینسکی کی صدارتی مدت 2024 میں ختم ہو چکی ہے، وہ دنیا کے بڑے راہنماوں سے ملاقات کر کہ خود کو قانونی حیثیت دینے کی کوشیش کر رہے ہیں، رو س حکام نے زور دیا ہے کہ روسی افواج کا ہولینڈ مکں اہداف کو نشانہ بنانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے روس کو پولینڈ اور نیٹو کے دیگر ممالک کے ساتھ کشیدگی بڑھانے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیں :  ودہولڈنگ ٹیکس غیر شرعی قرار دینے پر ایف بی آر کا سپریم کورٹ جانے کا فیصلہ