افغان طالبان نہ ہمارے بھائی ہیں اور نہ دوست ، خواجہ آصف

Sep 24, 2025 | 14:50:PM
افغان طالبان نہ ہمارے بھائی ہیں اور نہ دوست ، خواجہ آصف
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24نیوز)وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ افغان طالبان نہ ہمارے بھائی ہیں اورنہ دوست، طالبان حکومت نہ مانی توسخت اقدامات اٹھانے پڑیں گے۔

وزیر دفاع خواجہ آصف نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہورہی ہے، حملوں میں ہمارے شہری،فوجی شہید ہورہےہیں، افغانستان ہمارےخلاف استعمال ہو تو دوست ملک کیسے کہا جاسکتاہے۔

وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ آپ کے گھرسے حملے ہوں اور ہم بھائی کہیں یہ منافقت ہوگی، افغان طالبان ہمارےبھائی ہیں نہ دوست، اگر طالبان حکومت نے رویہ نہ بدلا تو پاکستان کو سخت اقدامات اٹھانا پڑیں گے۔

افغان مہاجرین کے حوالے سے خواجہ آصف نے کہا کہ افغان مہاجرین کی وجہ سے پاکستان کو سنگین مسائل کا سامنا ہے، افغان باشندے پاکستان کے پرچم کو سلام نہیں کرتے اور نہ ہی "پاکستان زندہ باد” کے نعرے لگاتے ہیں، ایسے میں انہیں بھائی کہنا ممکن نہیں۔

 ان کا مزید کہنا تھا کہ افغان مہاجرین نے پاکستان کے ٹرانسپورٹ بزنس پر قبضہ کرلیا ہے اور ریلوے کو بھی نقصان پہنچایا ہے، افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کی سہولت اسمگلنگ کے لیے استعمال ہورہی ہے جبکہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں ہونے والی دہشت گردی کو بھی افغانستان سے پشت پناہی مل رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پب جی گیم سے متاثر ہوکر گھر والوں کو قتل کرنے والے ملزم کو 100 سال قید کا حکم ،40لاکھ جرمانہ

انہوں نے بتایا کہ افغان مہاجرین کے مسئلے کا حل مہینوں کی نہیں بلکہ دنوں کی بات ہے، اگر افغانستان جنت نظیر بن گیا ہے تو مہاجرین کو واپس جانا چاہیے۔

وزیر دفاع نے کہا کہ افغانستان سے متعلق میرے خیالات پر وزیراعظم اور فیلڈ مارشل سے کوئی اختلاف نہیں، اسی لیے مجھے بات کرنے سے نہیں روکا گیا۔

خواجہ آصف کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون کی تاریخ رہی ہے اور پہلی بار دونوں ملکوں کے دفاعی تعاون کو باقاعدہ معاہدے کی شکل دی گئی ہے، سعودی عرب میں اس وقت 1600 پاکستانی فوجی موجود ہیں اور مستقبل میں دفاعی تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔

امریکی صدر ٹرمپ کی تجویز کے حوالے سے سوال پر وزیر دفاع نے کہا کہ غزہ کی صورتحال سنگین ہے، اگر امریکہ کی طرف سے کوئی باضابطہ تجویز آئی تو مسلم ممالک مشاورت کے بعد فیصلہ کریں گے کہ امن فوج بھیجنی ہے یا کنٹرول سنبھالنا ہے۔