معروف ڈائریکٹر،مصنف اور اداکار رؤف خالدکو بچھڑے14برس بیت گئے

تحریک آزادی کشمیر کے پس منظرمیں ڈرامہ سیریل انگار وادی آج بھی یادوں میں تازہ ہے

Nov 24, 2025 | 16:39:PM
معروف ڈائریکٹر،مصنف اور اداکار رؤف خالدکو بچھڑے14برس بیت گئے
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ایم وقار)معروف پروڈیوسر‘ڈائریکٹر،مصنف اور اداکار رؤف خالدکومداحوں سے بچھڑے14برس بیت گئے،اپنی منفرد شخصیت اوراعلیٰ صلاحیتوں کی بدولت انہوں نے بہت کم عرصے میں بے پناہ شہرت پائی،تحریک آزادی کشمیر کے پس منظرمیں انکی مقبول ڈرامہ سیریل ”انگار وادی“ آج بھی شائقین کی یادوں میں تازہ ہے۔


19دسمبر1957ء کومردان میں پیداہونیوالے رؤف خالد کاپورا نام عبدالرؤف خالد تھا، فنی کیریئرکاآغاز بطوررائٹراور ڈائریکٹر1989ء میں منشیات کے موضوع پربننے والی ڈرامہ سیریل”مدار“ سے کیاجس کے بعد1991ء میں 52 اقساط پرمشتمل ڈرامہ ”گیسٹ ہاؤس“ کیاجس میں انہوں نے جان ریمبو کو متعارف کروایاتھا۔

کشمیر کے موضوع پرڈرامہ سیریل”انگار وادی“ اور”لاگ“ان کی شہرت کاباعث بنی جس کے وہ ڈائریکٹر‘پروڈیوسر اوررائٹرتھے،اس کے علاوہ  بطور اداکار بھی ان میں کام کیاتھا،اس سے کشمیریوں کی حق خودارادیت کی تحریک کوبین الاقوامی سطح پر  تقویت ملی اورقابض  بھارتی فوج کا گھناؤنا چہرہ بے نقاب ہوا،نیئر اعجاز اور خواجہ سلیم کو بھی ان ڈراموں سے بہت زیادہ شہرت ملی تھی۔
ٹی وی کے علاوہ بطور رائٹر‘ ڈائریکٹراور پروڈیوسر 2003ء میں جدوجہد آزادی پر فلم ”لاج“ بھی بنائی لیکن وہ کامیابی حاصل نہ کرسکی۔2008ء میں طویل عرصہ کے بعد اپنی تیسری میگا ڈرامہ سیریل ”مشال“ بنائی،وہ ہالی وُڈ اسٹار جولیا رابرٹس کے ساتھ بھی ایک فلم بنانا چاہتے تھے جس کے لیے اسے پاکستان آنے کی دعوت بھی دی لیکن اپنی مصروفیات کے باعث جولیارابرٹس نے  انکار کردیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:بالی ووڈکے لیجنڈاداکار دھرمیندر 89 برس کی عمر میں چل بسے
رؤف خالد سابق بیوروکریٹ بھی تھے،لوک ورثہ میں نیشنل انسٹیٹیوٹ آف کلچر کے بانی ہونے کے ساتھ چانسلر کی حیثیت سے بھی فرائض سرانجام دیتے رہے،مصوری سے بھی انہیں بے حد لگاؤ تھا،فائن آرٹ گیلری نیویارک اور اوماما آرٹ گیلری میں  ان کی پینٹنگز کی نمائش منعقد ہوئیں۔وہ چوتھی میگا ڈرامہ سیریل پربھی کام کر رہے تھے جس کا صرف پوسٹ پروڈکشن اور نام فائنل ہونا باقی رہ گیا تھالیکن زندگی نے وفانہ کی،وہ 24نومبر2011ء کوصرف53سال کی عمرمیں ایک ٹریفک حادثے میں زندگی کی بازی ہارگئے تھے،انہیں فنی خدمات کے اعتراف میں پرائیڈ آف پرفارمنس کے علاوہ دی کشمیر میڈل سے بھی نوازاجاچکاہے۔