غزہ ،اسرائیل کی  بمباری اور مظالم جاری، زخمیوں کو طبی امداد دینے سے روک دیا

May 24, 2025 | 21:59:PM
غزہ ،اسرائیل کی  بمباری اور مظالم جاری، زخمیوں کو طبی امداد دینے سے روک دیا
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک)غزہ کی پٹی میں اسرائیلی بمباری کا سلسلہ جاری ہے۔ اسرائیلی افواج نے رفح کے کئی مقامات کو نشانہ بنایا۔زخمیوں کو امداد دینے سے روک دیا گیا۔

آج ہفتے کے روز "العربیہ" کے نمائندے نے تصدیق کی کہ اسرائیلی فوج نے شہری دفاع کو متاثرہ علاقوں میں زخمیوں کو طبی امداد دینے سے روک دیا۔ اسی طرح یہ بھی بتایا گیا کہ لاکھوں بے گھر افراد المواصی کے علاقے میں جمع ہو چکے ہیں، جب کہ دیر البلح شہر میں صرف چار تندور ہی کام کر رہے ہیں۔ اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ محصور غزہ میں خوراک کی شدید قلت کے باعث 14 ہزار بچوں کی جانوں کو خطرہ لاحق ہے۔یہ صورت حال ایسے وقت سامنے آئی ہے جب فلسطینی علاقے میں شہری دفاع نے اعلان کیا کہ رات بھر اسرائیلی فوج نے شدید بم باری کی، جس میں رہائشی اپارٹمنٹس، خیمے، اور وہ مکانات نشانہ بنے جہاں بے گھر افراد رہائش پذیر تھے۔ ان حملوں میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران تقریباً 79 فلسطینی جاں بحق ہوئے۔

العربیہ کے نمائندے نے بتایا کہ اسرائیلی جنگی طیاروں نے خان یونس شہر میں ایک رہائشی اپارٹمنٹ کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد جاں بحق اور زخمی ہوئے۔ اسی طرح، شمالی غزہ کے علاقے جبالیا میں بھی ایسے گھروں اور عمارتوں پر بم باری کی گئی جن میں بے گھر افراد مقیم تھے۔غزہ کے وسط میں واقع النصیرات کیمپ کے مغرب میں بھی بم باری ہوئی، جو جاری عسکری کارروائی کا حصہ ہے۔ اس کے علاوہ، اسرائیلی توپ خانے کی جانب سے ان علاقوں پر بھی شدید گولہ باری جاری ہے جہاں بے گھر افراد بڑی تعداد میں موجود ہیں۔ ان میں صفطاوی، سلاطین، تل الزعتر، اور شمالی غزہ میں انڈونیشی اور عودہ اسپتالوں کے اطراف شامل ہیں۔ اسرائیلی فوج ان دونوں اسپتالوں میں زخمیوں اور عملے کا مسلسل چوتھے دن محاصرہ کیے ہوئے ہے، جس سے طبی امداد کی فراہمی شدید متاثر ہو رہی ہے۔اس دوران، اقوام متحدہ کی فلسطینی پناہ گزینوں کی امدادی ایجنسی "انروا" کے کمشنر جنرل فلیپ لازارینی نے کہا ہے کہ غزہ میں امداد کی لوٹ مار کے مناظر نہ حیران کن ہیں اور نہ چونکانے والے، کیوںکہ وہاں کے عوام گزشتہ 11 ہفتوں سے بھوک کا شکار ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: 40 سال تک صفائی کرکے پیسے جمع کرنے والا انڈونیشیا کا جوڑا حج کرنے پہنچ گیا