شانگلہ حملہ کیس، معطل پولیس افسران الزامات سے بری، ملازمت پر بحال

Jun 24, 2026 | 21:28:PM
شانگلہ حملہ کیس، معطل پولیس افسران الزامات سے بری، ملازمت پر بحال
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(بابر شہزاد ترک) وفاقی حکومت نے شانگلہ حملہ کیس کے بعد غفلت کے الزامات کے تحت معطل کیے گئے پولیس سروس کے 2 افسران کو 2 سال سے زائد عرصہ تک جاری رہنے والی محکمانہ انکوائری میں الزامات ثابت نہ ہونے پر بری کرتے ہوئے ملازمت پر بحال کر دیا ہے۔

24 نیوز کو دستیاب اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ دستاویزات اور نوٹیفیکیشنز کے مطابق پولیس سروس آف پاکستان کے گریڈ 20 کے افسر ڈی آئی جی محمد اعجاز خان اور گریڈ 18 کے ایس پی محمد سلمان کے خلاف محکمانہ کارروائی ختم کر دی گئی ہے، دونوں افسران کو تمام الزامات سے بری قرار دیتے ہوئے سروس میں بحال کر دیا گیا ہے۔ 

دستاویزات کے مطابق وزیر اعظم نے مجاز اتھارٹی کی حیثیت سے محکمانہ انکوائری کی سفارشات کی منظوری دیتے ہوئے دونوں افسران کی بریت اور بحالی کے احکامات جاری کیے اور بعد ازاں اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے ان احکامات پر عملدرآمد کرتے ہوئے الگ الگ نوٹیفکیشن جاری کر دیے ہیں۔

نوٹیفکیشنز میں کہا گیا ہے کہ محکمانہ انکوائری کے دوران افسران کے خلاف عائد الزامات ثابت نہیں ہو سکے، جس کے باعث ان کے خلاف جاری کارروائی ختم کر دی گئی ہے، دونوں افسران کی بحالی 19 جون 2026 سے مؤثر قرار دی گئی ہے اور وہ بدستور حکومت خیبر پختونخوا میں اپنی خدمات انجام دیتے رہیں گے۔

 یاد رہے کہ شانگلہ میں چینی انجینئرز کے قافلے پر مارچ 2024 میں ہونے والے حملے کے بعد پولیس افسران محمد اعجاز خان اور محمد سلمان کو 9 اپریل 2024 کو  معطل کیا گیا تھا، اس حملے میں 5 چینی شہریوں اور ان کے پاکستانی ڈرائیور سمیت 6 افراد جاں بحق ہوئے تھے، واقعہ اس وقت پیش آیا جب داسو ہائیڈرو پاور منصوبے سے وابستہ چینی انجینئرز کی گاڑی بشام کے علاقے میں خودکش حملے کا نشانہ بنی، حملے کے بعد سیکیورٹی انتظامات اور حفاظتی اقدامات کے حوالے سے مختلف سطحوں پر تحقیقات اور محکمانہ کارروائیاں شروع کی گئی تھیں

یہ بھی پڑھیں : بجٹ بنانے والے وزارت خزانہ اور وزیراعظم ہاؤس کے ملازمین کو 6 ماہ کی تنخواہ بطور بونس دینے کا اعلان