ان کا شکریہ کہ بانی کے علاج کے بعد ہمیں مطلع کر دیا، ہمارا مطالبہ تھا کہ رہنماؤں کی موجودگی مین علاج کریں، بیرسٹر گوہر
Stay tuned with 24 News HD Android App
(محمد اویس) پی ٹی آئی کے چئیرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ علیمہ خان نے اگر کہا کہ بانی کا علاج کرائیں تو ہم سیاسی گفتگو نہیں کریں گے، تو یہ ٹھیک بات ہے۔
بیرسٹر گوہر نے اڈیالہ جیل کے قریب ماربل فیکٹری ناکہ پر میڈیا سے باتیں کرتے ہوئے کہا ہے کہ بانی کے دوسرے چیک اپ سے متعلق ہمیں پیشگی اطلاع نہیں دی گئی۔
بیرسٹر گوہر نے کہا، گزشتہ رات طبی معائنہ کے بعد مجھے اطلاع کی گئی کہ بانی کا طبی معائنہ ہو گیا اور انھیں واپس جیل لے گئے ہیں۔ حکومت کی جانب سے پہلے تاریخ کا ذکر کیا گیا تھا لیکن یہ نہیں پتہ تھا کہ رات کو اس طرح آئیں گے ۔ انکا شکریہ کہ انھوں نے بانی کے علاج کے بعد ہمیں مطلع کر دیا ہے۔
بیرسٹر گوہر نے کہا، ہمارا مطالبہ ہے کہ کہ بانی کا علاج ان کی فیملی اور ذاتی معالجین کی موجودگی میں شفاء انٹرنیشنل میں کروایا جائے۔
بیرسٹر گوہر نے کہا، میں ہمیشہ لوگوں کو کہتا ہوں کہ آواز ضرور اٹھائیں لیکن زبان نہ چلائیں،میں زبان چلانے کے خلاف ہوں۔ تمام فریقین کو لحاظ کرنا چاہیئے تاکہ ملک آگے چل سکے،ملک اس چیز کا متحمل نہیں ہو سکتا۔
یہ بھی پڑھیئے: فتنۃ الخوارج کا زخمی ایف سی اہلکاروں کو لے جانے والی ایمبولینس پر حملہ، آگ لگا کر زندہ جلا دیا
بانی کے علاج اور ملاقات میں رکاوٹ ڈالنے کا کوئی جواز نہیں۔اگر بانی کے علاج کے لئے ایک شخص کو بلایا جائے تو دوسرے کو انا کا مسئلہ نہیں بنانا چاہیئے۔ ملک میں پہلے ہی دہشتگردی اور بے روزگار ی ہے۔ ملک مزید بحرانوں کا متحمل نہیں ہو سکتا ۔
بیرسٹر گوہر نے کہا، کوئی ایسا راستہ اپنانا چاہیئے کہ ملک بہتری کی جانب بڑھے۔ رہائی فورس کا معاملہ پارٹی میں ڈسکس کیا ہے،ہم چاہتے ہیں کوئی بھی ایسی چیز نہ ہو جو غیر قانونی و آئینی ہو۔ ہم ہر فورم پر جائیں گے آواز اٹھائیں گے،سڑکوں پر بھی آئیں گے پارلیمنٹ بھی جایں گے۔ ہم عدالتوں میں بھی جائیں گے آج بھی سپریم کورٹ کے باہر بیٹھے ہیں ۔ایساکام نہیں کریں گے جو جمہوری نہ ہو ۔
بیرسٹر گوہر نے کہا، میں اگر چیئرمین نہ ہوتا تو بانی کی رہائی کے حوالے سے کی گئی کوششوں پر بڑا کچھ کہتا ۔ میں یہ کہہ رہا ہوں جو ہوا سو ہوا،ہم۔کوشش کر رہے ہیں کہ حالات بہتر ہوں۔ جو کچھ ہمارے کنٹرول میں ہے ہم کر رہے ہیں،دلجوئی اور ایمانداری سے کر رہے ہیں ۔
انہوں نے کہا، کوشش کی کہ بانی کا علاج انکی فیملی اور ذاتی معالج کی موجودگی میں کرایا جائے ۔ بڑی کوشش کی کہ بانی کو اسپتال منتقل کیا جائے،لیکن چیزیں رہ گئیں شاید کچھ ہم سے غلطیاں اور کچھ ان سے غلطیاں ہوئیں
لیکن ایسا نہیں ہو سکا،ایکدوسرے کو زیادہ سن کرانا کا مسئلہ نہیں بنائیں گے ایک دوسرے کو سنیں گے تو ایک دن یہ ہو جائے گا ۔
یہ بھی پڑھیئےـ کوہاٹ میں پولیس موبائل پر حملہ، ڈی ایس پی سمیت 7 اہلکار شہید، 2 زخمی
بیرسٹر گوہر نے کہا، پاکستان کے مسائل کا حل سیاسی ہے ۔ سیاسی مقدمات سے نکلنے کے لیے بھی سیاسی راستہ ڈھونڈنا چاہیئے ۔
ایک سوال کے جواب میں بیرسٹر گوہر نے کہا، یہ ٹھیک بات ہےعلیمہ خان نے اگر کہا کہ بانی کا علاج کرائیں تو ہم سیاسی گفتگو نہیں کریں گے۔سیاست سے بانی دور نہیں ہو سکتے ملکی سیاست کا مین آف دی میچ بانی ہے ۔
بیرسٹر گوہر نے کہا، علیمہ خانم نے مجھے ہٹانے کی کبھی کوئی بات نہیں ۔ عہدہ بانی کی امانت ہے جب کہیں گے چھوڑ دوں گا۔ شیر افضل مروت کو علیمہ خان سے متعلق بیان نہیں دینا چاہیئے تھا۔ علیمہ خان نے مجھے استعفی دینے اور خود پارٹی چیئرپرسن بننے کا کبھی نہیں کہا۔
پی ٹی آئی کے چئیرمین نے یہ بھی کہا، ہمارا ون پوائنٹ ایجنڈا ہے کہ دہشتگردی ختم ہو ۔ پاکستان کا حق دفاع ہے کہ جہاں دہشتگرد اٹھتے ہوں،چاہے وہ بیرونی ملک ہو پاکستان اپنا دفاع کرے،جہاں انکے ٹھکانے ہیں ختم کرے ۔
ہم کوئی غیر قانونی و آئینی قدم نہیں اٹھائیں گے۔ ہم سیاسی جماعت ہیں سیاسی جدو جہد پر یقین رکھتے ہیں،مسلح جدوجہد اور ملیشیاء رکھنے پر یقین نہیں رکھتے ۔ فورس کے کیا خدو خال ہوں گے،اس پر پارٹی میں غور ہو گا
ہم جو بھی کریں گے آئین وقانون کے مطابق کریں گے ۔ ہماری کوشش تو ہے کہ ٹیبل پر بیٹھا جائیں دوسرے لوگ نہیں آئے ہمیں ٹیبل پر بٹھایا نہیں ہو رہا تھا۔ انکا شکریہ کہ انھوں نے بانی کے علاج کے بعد ہمیں مطلع کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیئے: علیمہ خان، نورین خان اور عظمی خان کا اڈیالہ جیل کے داہگل ناکے پر دھرنا