ماہے سیشلز کی نیچر ٹریل پر پاکستان کی تاریخی فتح
تحریر؛ روزینہ علی
Stay tuned with 24 News HD Android App
ماہے سیشلز میں پاکستانی رنرز نے اپنے قدموں کے نشان چھوڑتے ہوئے جیت کے جھنڈے گاڑ دیئے ،سیشلز کی آزاد فضائیں پاکستان زندہ باد کے نعروں سے گونج اٹھیں۔
23 اگست 2025 کی صبح 7 بجے ماہے سیشلز میں 22 کلو میٹر کی طویل ٹریل رننگ کا آغاز ہوا، دنیا بھر سے 169 رنرز نے حصہ لیا اور اس میں پاکستان کے 9 رنرز بھی اس ریس کا حصہ بنے، تمام رنرز نے اشارہ ملتے ہی سیشلز نیچر ٹریل چیلنج 2025 کو مکمل کرنے کی ٹھانی، پاکستانی رنرز بھی جوش و جذبے سے سخت چٹانوں خطرناک راستوں کو عبور کر رہے تھے، تاریخ ساز مقابلے میں چترال سے تعلق رکھنے والے وقار احمد نے 22 کلومیٹر طویل پہاڑی راستے کو 2 گھنٹے، 11 منٹ اور 30 سیکنڈ میں مکمل کیا اور پہلی پوزیشن حاصل کر کے پاکستان کا نام روشن کیا، اسلام آباد کے عمر زمان نے 2 گھنٹے 14 منٹ میں ریس مکمل کی اور دوسری پوزیشن حاصل کی جبکہ اسلام آباد ہی کے مزمل شہزاد نے چوتھی پوزیشن اپنے نام کی۔
ٹریل رننگ کے اس خطرناک کھیل میں صرف لڑکوں نے ہی نہیں لڑکیوں نے بھی پاکستان کا نام روشن کیا، پاکستان سے لاہور کی انعم عذیر نے 4 گھنٹے 24 منٹ میں ریس مکمل کر کے سب سے تیز رنر ہونے کا اعزاز حاصل کیا، ان کے بعد اسلام آباد کی نیلاب کیانی نے بھرپور عزم کے ساتھ دوسری پوزیشن حاصل کی، زائرہ نے بھی ریس کامیابی سے مکمل کی،پاکستانی صحافیوں راجہ محسن اعجاز اور فیضان لاکھانی بھی ریس مکمل کرنے میں کامیاب رہے،پاکستانی رنرز کی شاندار کامیابی کے بعد سیشلز پاکستان زندہ باد کے نعروں سے گونجتا رہا، ٹریل کو کامیابی سے مکمل کرنے والے تمام رنرز میں انعامات بھی تقسیم کیے گئے۔
ٹریل کا راستہ دشوار گزار نوکیلے پتھروں اور بڑی بڑی چٹانوں پر مشتمل ہے، اس ٹریل پر بہت سارے ٹیکنیکل پوائنٹس آتے ہیں جس کے لیے یقیناً پریکٹس کے ساتھ ساتھ حاضر دماغی بھی ضروری ہے، کہیں اونچی چٹانوں کے ساتھ ڈھلوان راستے تو کہیں اونچے نیچے بل کھاتے راستے ہیں، اونچے سنگلاخ پہاڑوں بڑی بڑی چٹانوں کے ساتھ جہاں گہری کھائیاں ہیں وہیں ساتھ ساتھ گرجدار آواز کے ساتھ بہتا سمندر ہے جو رنرز کے جوش و جذبے میں اضافہ کرتا ہے، تمام رنرز بھاگتے دوڑتے اپنے ہدف کو عبور کرنے کی جدوجہد میں مسلسل مصروف رہے اور اس مشکل ہدف کو حاصل کرنے کے لیے کافی چوٹیں بھی کھائیں۔
سیشلز ٹورازم کا مقصد اس ٹریل کے ذریعے دنیا کو یہ باور کرنا بھی مقصود تھا کہ قدرت کے تمام رنگ اپنے حقیقی رنگوں سے مزین ہی اچھے لگتے ہیں، نیچر کو انجوائے کرنے کے لیے اس نیچر کو خراب ہونے سے بچانا بھی سب کی ذمہ داری ہے ، اس گھنے جنگل میں جہاں قدرت کا حسن بے تحاشا اور جابجا بکھرا ہوا ہے وہیں سیشلز کی نیچر ٹریل ہر طرح کی آلودگی اور گندگی سے پاک تھی جس میں رنرز یقین صاف ماحول کی رننگ کو مزید انجوائے کرتے ہیں، اسکے علاوہ سیشلز ٹورازم کا ایک مقصد رننگ اسپورٹس کو بھی پروموٹ کرنا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس صحت مند سرگرمی کا حصہ بنیں اور اس طرح کی صحت مند سرگرمیوں سے محبت کریں۔
یہ بھی پڑھیں؛ کل سے خطرناک بارشوں اور چھٹی سے متعلق میئر کراچی کا اہم بیان