دریائے سندھ میں غیر قانونی گولڈ مائننگ ، خیبر پختونخوا حکومت نے گرینڈ آپریشن کی منظوری دیدی
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز)خیبر پختونخوا حکومت نے صوبائی کابینہ کے فیصلوں کی روشنی میں دریائے سندھ میں غیر قانونی گولڈ مائننگ کیخلاف گرینڈ آپریشن کی منظوری دیدی۔
آپریشن کی منظوری سیکرٹری منرل ڈویلپمنٹ کی زیر صدارت اجلاس میں دی گئی ، اس حوالے سے صوابی ، نوشہرہ اور کوہاٹ کی انتظامیہ کو ٹاسک دے دیا گیا۔
منرل ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ خیبر پختونخوا کے حکام کے مطابق دریاٸے سندھ میں صوابی ، نوشہرہ اور کوہاٹ میں دریائے سندھ کے اے ، بی ، سی اور ڈی بلاکس میں کئی سال سے جاری غیر قانونی گولڈ مائننگ سے خزانے کو نقصان پہنچنے کیساتھ ساتھ ماحولیاتی خطرات بھی پیدا ہو رہے ہیں۔
منرل ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے مطابق دریائے سندھ میں غیر قانونی گولڈ مائننگ سے متعلق شکایات پر اب تک 1298 ایف آئی آرز درج کرکے 8.8 ملین روپے جرمانہ وصول کیا گیا ہے۔ صوابی میں 167 ، نوشہرہ 430 اور کوہاٹ میں 701 ایف آئی آرز درج کی گئیں۔
یہ بھی پڑھیں:یوکرینی ڈرون حملے کے بعد روسی جوہری پلانٹ میں آگ بھڑک اُٹھی
یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ چئیرمین نیب لیفٹینٹ جنرل (ر) نذیر احمد نے دریائے سندھ میں 4.92 ارب روپے مالیت کے گولڈ ماٸنگ ٹھیکوں کی ریزور قیمیت کم رکھنے پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے خیبر پختونخوا حکومت کو مذکورہ ٹھیکوں پر نظر ثانی کی ہدایت کی ہے۔
منرل ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے ذرائع کے مطابق خیبر پختونخوا میں دریائے سندھ اور دریاٸے کابل میں 17 بلاکس پر گولڈ مائینز کی نشاندہی ہوٸی ہے جن میں 14 بلاکس دریائے سندھ اور 3 بلاکس دریائے کابل پر واقع ہیں۔