امریکی ڈیزل برآمدات پر پابندی کی تجویز، عالمی قیمتیں دگنی ہونے کا خدشہ
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک )امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ڈیزل کی برآمدات پر پابندی کی حمایت کے بعد عالمی ایندھن مارکیٹ میں تشویش پیدا ہوگئی، ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس اقدام سے قیمتیں کم ہونے کے بجائے عالمی سطح پر مزید بڑھ سکتی ہیں۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ٹرمپ نے منگل کو ڈیزل کی برآمدات پر پابندی کی حمایت کی، جس کا مقصد امریکا میں ریکارڈ سطح تک پہنچنے والی ڈیزل قیمتوں کو کم کرنا ہے۔ تاہم تجزیہ کاروں اور مارکیٹ ماہرین کا کہنا ہے کہ پابندی سے عالمی سپلائی مزید متاثر ہوسکتی ہے اور توانائی کے بحران میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
امریکا نے اگست میں ریکارڈ 16 لاکھ بیرل یومیہ ڈیزل برآمد کیا، جبکہ فروری میں یہ مقدار تقریباً 10 لاکھ بیرل یومیہ تھی۔ امریکی ڈیزل کے بڑے خریداروں میں برازیل، چلی، میکسیکو، پیرو، مراکش، فرانس اور برطانیہ شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق امریکا میں روڈ ڈیزل کے ذخائر تقریباً 96.97 ملین بیرل رہ گئے ہیں، جو گزشتہ پانچ سال کی موسمی اوسط سے تقریباً 13 فیصد کم ہیں، حالانکہ امریکی ریفائنریز اپنی مجموعی صلاحیت کے تقریباً 97 فیصد پر کام کر رہی ہیں۔
توانائی کے ماہر فلپ ورلیگر کے مطابق ڈیزل کی برآمدات پر پابندی سے ابتدائی طور پر عالمی قیمتوں میں شدید اضافہ ہوسکتا ہے اور بعض حالات میں عالمی قیمتیں 100 فیصد تک بڑھ سکتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:قرض کے بجائے اپنی کمائی، پاکستان نے برآمدات کیلئے بڑا ہدف مقرر کردیا
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ برآمدات پر پابندی کی صورت میں امریکی ریفائنریز بھی خام تیل کی پروسیسنگ کم کرسکتی ہیں، کیونکہ ان کی مصنوعات کیلئے دستیاب عالمی مارکیٹ محدود ہوجائے گی۔ اس کے نتیجے میں امریکا میں پٹرول سمیت دیگر پیٹرولیم مصنوعات کی پیداوار بھی متاثر ہوسکتی ہے۔
امریکن پیٹرولیم انسٹی ٹیوٹ نے بھی ڈیزل برآمدات محدود کرنے کی مخالفت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس اقدام سے امریکا اور بیرون ملک ایندھن کی منڈیوں میں عدم استحکام پیدا ہوسکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق امریکا سے ڈیزل کی سپلائی میں کمی کا اثر خاص طور پر یورپ پر پڑ سکتا ہے، جو ڈیزل کی عالمی منڈی میں پہلے ہی قلت کا سامنا کر رہا ہے اور امریکی خلیجی ساحل سے آنے والی سپلائی پر انحصار کرتا ہے۔
رائٹرز کے مطابق ڈیزل کی موجودہ قلت میں یوکرین کے روسی ریفائنریوں پر حملوں اور امریکا ایران جنگ کے باعث اہم تجارتی راستوں، خصوصاً آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں کا بھی کردار ہے۔