اسرائیلی پارلیمنٹ کی پیشرفت غزہ معاہدے کیلئے خطرہ ہے:امریکا نے خبردار کر دیا
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز)امریکا نے کہا ہے کہ اسرائیلی پارلیمنٹ کی پیش رفت غزہ معاہدے کیلئے خطرہ ہے۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اسرائیل کو خبردار کیا ہے کہ پارلیمان کا مقبوضہ مغربی کنارے کے اسرائیل میں انضمام کے حوالے سے اقدام اور آباد کاروں کے تشدد سے غزہ امن معاہدے کو خطرہ ہے۔
مارکو روبیو نے اسرائیل کے دورے کے لیے روانگی سے قبل صحافیوں سے بات چیت میں کہا کہ صدر ٹرمپ واضح کر چکے ہیں کہ وہ مغربی کنارے کے انضمام سے متعلق اقدام کی حمایت نہیں کر سکتے۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے یہ بھی کہا کہ متعدد ممالک غزہ کے لیے بین الاقوامی فورس میں حصہ لینے کے لیے تیار ہیں، واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی مخالفت کے باوجود اسرائیلی پارلیمنٹ نے مغربی کنارہ اسرائیل میں ضم کرنے کی غیر قانونی منظوری دے دی ہے۔
ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق وزیر اعظم نیتن یاہو کی جماعت نے مقبوضہ مغربی کنارے کو اسرائیل میں ضم کرنے کے بل کی حمایت نہیں کی، تاہم اسرائیلی قانون سازوں نے 120 رکنی پارلیمنٹ میں 4 مراحل پر مشتمل بل کے پہلے مرحلے کی 24 کے مقابلے میں 25 ووٹوں سے منظوری دی۔ بل مزید غور کے لیے خارجہ امور و دفاعی کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:اوورسیز پاکستانیوں کیلئے بڑی خبر، گاڑیوں کی ٹرانسفر کا عمل آسان ہوگیا
یہ ووٹنگ اس وقت ہوئی ہے جب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس غزہ میں جنگ بندی معاہدہ کو ناکامی سے بچانے کے لیے اسرائیل کے دورے پر ہیں۔ یروشلم میں اسرائیلی کنیسے میں منظور شدہ بل کے تحت اسرائیلی قانون کو مقبوضہ مغربی کنارہ پر نافذ کیا جائے گا، یہ اقدام باضابطہ طور پر زمین کو ضم کرنے کے مترادف ہے، جسے فلسطینی اپنی آزاد ریاست کے قیام کے لیے چاہتے ہیں۔