ترکیہ  کی فوج شام میں  داعش کے دس  کارکنوں کو گرفتار کرکےترکیہ لےگئی

May 23, 2026 | 17:02:PM
 ترکیہ  کی فوج شام میں  داعش کے دس  کارکنوں کو گرفتار کرکےترکیہ لےگئی
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک) ترکیہ  کی فوج نے شام میں  داعش کے دس  کارکنوں کو گرفتار کرلیا۔ ان لوگوں کوگرفتاری کے بعد ترکیہ پہنچا دیا گیا ہے۔

 ترکیہ کی وزارت دفاع نے تصدیق کی ہے کہ  ترکیہ کی انٹیلی جنس ایجنسی ایم آئی ٹی شام میں داعش کے 10 مشتبہ دہشتگردوں کو پکڑ کر ترکیہ لے آئی ہے۔

ایک ٹرکش نیوز ایجنسی نے سیکیورٹی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ شامی انٹیلی جنس کے ساتھ مل کر کی گئی کارروائی میں پکڑے گئے مشتبہ افراد کا تعلق ترکیہ میں ہونے والے دہشتگردحملوں سے ہے۔ اب ان کو تفتیش اور مقدمہ چلانے کے لئے ترکیہ لایا گیا ہے۔

 داعش (آئی ایس آئی ایس) کے کارکن ان افراد کا تعلق ترکیہ سے ہی ہے۔ ان میں سے ایک انقرہ ٹرین سٹیشن پر 2015 میں  بم حملے ک میں ملوث رہا ہے۔  گیارہ سال پہلے ہونے والی اس دہشتگردی میں  100 سے زیادہ لوگ مارے گئے تھے۔

 ذرائع نے بتایا کہ حراست میں لیے گئے افراد میں سے ایک اور کارکن داعش کے ترکیہ گروپ کے سربراہ کے طور پر کام کرتا تھا۔

ترکیہ کی وزارتِ دفاع اور انٹیلیجنس ایجنسیاں مسلسل شام میں داعش (ISIS) کے نیٹ ورکس کو نشانہ بنا رہی ہیں، اور شام میں موجود ترک افواج اور ان سے جڑے دیگر معاملات کی موجودہ تفصیلات درج ذیل ہیں:  العربیہ اردو
 
 شام میں ترکیہ کے کتنے فوجی موجود ہیں؟
شام میں ترکیہ کے 20,000 سے زائد فوجی اور سیکیورٹی اہلکار مستقل  تعینات ہیں۔  صدر بشار الاسد کے اقتدار کے خاتمے اور نئی اتحادی حکومت کے قیام کے بعد، ترکیہ اور شام  کی اس حکومت کے مابین ہونے والے سیکیورٹی معاہدوں کے تحت ترک فوج لاجسٹک، فضائی دفاعی نظام اور اینٹی میزائل سسٹم کے ساتھ شام میں موجود ہے۔  
 
 ترک افواج کن مخصوص علاقوں میں موجود ہیں؟
ترک افواج پورے شام میں صرف شمالی اور شمال مغربی سرحدی علاقوں (مخصوص پٹی) میں موجود ہیں۔ ان علاقوں کو تین بڑے فوجی آپریشنز کے بعد کنٹرول کیا گیا تھا۔ 
شمال مغربی شام  میں عدلب اور  عفرین کے علاقوں میں ترک فوج موجود ہے۔  عدلب صوبے کے باغی علاقوں میں ترک فوج کے درجنوں مشاہداتی مراکز (Observation Posts) قائم ہیں۔ عفرین کا علاقہ بھی ترکیہ کے براہِ راست کنٹرول میں ہے۔ 
شمالی حلب کے علاقوں اعزاز، الباب، جرابلس کی پٹی ترکیہ نے اپنے پہلے فوجی آپریشنز کے ذریعے حاصل کی تھی۔ 
شمال مشرقی سرحدی پٹی  میں ترکیہ اور اس کے اتحادی شامی دھڑوں (Syrian National Army) کے پاس (راس العین اور تل ابیض کی اہم سرحدی چوکیاں موجود ہیں۔ 

Caption  شام میں ترکیہ کی فوج کے ہاتھوں گرفتار ہونے والے داعش کے تین کارکنوں کی فائل فوٹو۔ ان کی گرفتاری تین سال پہلے  ایک کارروائی کے دوران ہوئی تھی۔ 


ترکیہ کا  ان شامی علاقوں میں اپنی موجودگی کے متعلق خود بتایا ہوا مقصد یہ ہے کہ  شام کے ان علاقوں میں کُرد مسلح گروہوں (YPG/SDF) کو  ترکیہ کی سرحد سے دور رکھے  اور  اس کے ساتھ داعش کے حملوں کو روکنے کے لئے داعش کے خلاف کارروائیاں کرے۔
 
 شام میں داعش (ISIS) کی موجودگی کی موجودہ صورتحال کیا ہے؟
داعش (دولتِ اسلامیہ العراق والشام) کچھ برس پہلے شام میں بہت بری قوت بن کر ابھری تھی اور بہت وسیع علاقوں پر داعش کا قبضہ اور کنٹرول ہو گیا تھا۔ داعش کو امریکہ، شامی کی بشار الاسد حکومت، روس سمیت کئی اطراف سے فوجی کارروائیوں کا سامنا رہا ، اس کی پہلی ، دوسری صف کی قیادت کا مکمل صفایا ہو گیا  اور اس کی طاقت رفتہ رفتہ ختم ہو گئی۔  اب شام میں داعش کسی بڑے یا مخصوص جغرافیائی علاقے (خلافت) پر قابض نہیں ہے۔ تاہم، وہ مکمل طور پر ختم بھی نہیں ہوئی۔ شام میں داعش کے اب کچھ  زیرِ زمین سیلز (Underground Cells) باقی رہ گئے ہیں۔  ایک اندازے کے مطابق شام اور عراق میں داعش کے اب بھی تقریباً 3,000 کے قریب متحرک جنگجو موجود ہیں۔ یہ جنگجو چھوٹے چھوٹے خفیہ گروپوں کی شکل میں کارروائیاں کرتے ہیں۔  

یہ بھی پڑھیں:  سابق سفیر ایاز وزیر کی بیٹی ٹریفک حادثے میں جاں بحق 
شامی ریگستان (البادیہ) وہ علاقہ ہے جہاں  داعش کے بچے کھچے  نیٹ ورکس کی موجودگی کا شبہ کیا جاتا ہے۔ وہ لوگ  زیادہ تر شام کے وسطی اور مشرقی ریگستانی علاقوں (حمص اور دیر الزور کے صحراؤں) میں چھپے ہوئے ہیں، جہاں سے وہ شامی سیکیورٹی فورسز اور کُردوں  کے خلاف پر چھاپہ مار کارروائیاں کرتے ہیں۔ 

جیلوں میں قید داعش کے ہزاروں کارکنوں کا خطرہ

 شام میں داعش کا سب سے بڑا خطرہ جنگجوؤں کی جسمانی موجودگی سے زیادہ کُرد فورسز (SDF) اور نئی شامی حکومت کی جیلوں میں قید ہزاروں سابقہ داعش جنگجو اور ان کے خاندان ہیں۔ الہول (Al-Hol) جیسے کیمپوں میں موجود یہ افراد سیکیورٹی میں معمولی غفلت یا افراتفری کا فائدہ اٹھا کر دوبارہ منظم ہونے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔
ترکیہ شام کے اندر انٹیلیجنس آپریشنز اور فضائی حملوں کے ذریعے سرحد پار سے داخل ہونے والے یا ان علاقوں میں روپوش داعش کے سیلز کو نشانہ بناتا رہتا ہے۔

Caption  شام کے شہر رقہ میں الاقطان جیل کے باہر قیدیوں کے رشتہ دار جمع ہیں، جہاں داعش کے کچھ قیدی رکھے گئے ہیں۔  یہ فوٹو  22 جنوری کو بنائی گئی۔